سرسراہٹ
Meeraji (1912–1949)یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں
یہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں
یہ موج بادہ ہیں ساغر کی خوابیدہ فضا دل میں
اچانک جاگ اٹھتی ہے
حقیقت کے جہاں سے کوئی اس دنیا میں در آئے
تو اس کے ہونٹ متبسم ہوں شاید قہقہہ اٹھ کر
مرے دل کو جکڑ لے اپنے ہاتھوں سے
بہانے ہی بہانے ہیں
کی افتاد کے جلوے کو مرے سامنے لا کر ہوا ہے گم
یہ سب موج تخیل کی روانی تھی
بے فائدہ مصرف
ہر اک پوشیدہ منظر کو
اگل ڈالے گا اک لمحہ وہ آئے گا
کہ جب اس بات کے سننے پہ سننے والے سوچیں گے
بہانہ کیا تھا سلوٹ کیا تھی موج بادہ بھی کیا تھی
مجھ کو اجازت ہے
یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں یہ جھجک کیسی
یہ لہریں ہیں انہیں نسبت ہے کالی رات کے غم ناک دریا سے
جو بہتا ہی چلا جاتا ہے رکتا ہی نہیں پل کو
جسے کچھ بھی غرض اس سے نہیں میں ہاتھ رکھوں یا جھجک اس ہاتھ کو میرے
کلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں
کلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں