Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلااحوال زار شاہ شہیدان کربلاMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوالاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہواMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیاشیوہ ستم کا تیرہ دلوں کو سکھا دیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائےپر ساتھ اس کے لپٹا ہوا دل کہیں نہ جائےMir Hasan (1727–1786)
  5. اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیںآباد یہ مکان کبھی ہے کبھی نہیںMir Hasan (1727–1786)
  6. اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کیجاتی ہے دور دور تک آواز رات کیMir Hasan (1727–1786)
  7. اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کربلبل کے پر پڑے ہیں گلوں پر نثار کرMir Hasan (1727–1786)
  8. ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تککیا جانے پھر جئیں نہ جئیں ہم بہار تکMir Hasan (1727–1786)
  9. رکھتا ہے صلح سب سے دل اس کا پہ مجھ سے جنگغیروں کے حق میں موم ہے اور میرے حق میں سنگMir Hasan (1727–1786)
  10. سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہےکار جہاں تمام کمینے پہ آ رہےMir Hasan (1727–1786)
  11. کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھےاے سیل اشک تو ہی بہا دے ادھر مجھےMir Hasan (1727–1786)
  12. کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سےدونی بہار دیوے ہے گلزار دور سےMir Hasan (1727–1786)
  13. مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہےتو دل میں ہے ہمارے ہمیں دل عزیز ہےMir Hasan (1727–1786)
  14. نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرضہے بھی جو کچھ غرض تو ہمیں یار سے غرضMir Hasan (1727–1786)
  15. نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریںعشق بتاں میں صبر خدا سے طلب کریںMir Hasan (1727–1786)
  16. وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہےاور اپنی دل دہی کا جو احوال ہے سو ہےMir Hasan (1727–1786)
  17. یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگےتو کچھ نہ کہہ کہ ہم غربا کو بری لگےMir Hasan (1727–1786)
  18. دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہےپر جان تو بھی ہو تو عجب سر زمین ہےMir Hasan (1727–1786)
  19. انکار ہم سے غیر سے اقرار بس جی بسدیکھے تمہارے ہم نے یہ اطوار بس جی بسNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  20. جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیاسنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  21. چھوٹا بڑا نہ کم نہ منجھولا ازار بندہے اس پری کا سب سے امولا ازار بندNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  22. دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سمادیکھا تو ہر مکاں میں وہی ہے رہا سماNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  23. دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیاپایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  24. رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کاہیں جس کے سب صنم وہ صنم ہے فقیر کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  25. رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہاکبر کے نام سے ہوا آباد آگرہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  26. ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی ابپھر بزم ہوگی جب تو سمجھ لیجو جب کی جبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  27. ساقی ظہور صبح و ترشح ہے نور کادے مے یہی تو وقت ہے نور و ظہور کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  28. عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کاارنی پکارتا ہے سدا دم فقیر کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  29. کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے ابیعنی وہ شوخ ہم سے خفا بے سبب ہے ابNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  30. کہتے ہیں یاں کہ ”مجھ سا کوئی مہ جبیں نہیں”پیارے جو ہم سے پوچھو تو یاں کیا کہیں نہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  31. کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھااپنا بھی اس طرف گزر عاشقانہ تھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  32. گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیااسلام چھوڑ کفر لیا پھر کسی کو کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  33. لیتا ہے جان میری تو میں سر بدست ہوںاے یار میں تو کشتۂ روز الست ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  34. نکلے ہو کس بہار سے تم زرد پوش ہوجس کی نوید پہنچی ہے رنگ بسنت کوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  35. روٹیاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  36. مفلسیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  37. آدمی نامہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  38. فناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  39. شب براتNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  40. عیدNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  41. جھونپڑاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  42. بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی باتآوارۂ وطن کو لگے خوش وطن کی باتQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  43. کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسراہے تو ترا ہی عکس نمایاں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  44. کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیاحرف سخاوت آہ زمانے سے اٹھ گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  45. کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیاپر دیکھنے کا اس کے کہیں ڈھب نہ بن گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  46. مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگارہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  47. یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسراہاں کچھ جو ہے تو روضۂ رضواں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  48. کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بنلگتا نہیں ہے جی کہیں لگا لگائے بنQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  49. اس رشک مہ کی یاد دلاتی ہے چاندنیہر رات مجھ کو آ کے ستاتی ہے چاندنیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  50. ایسا بھی کوئی کرے ہے خلل ملک دیں میں بتہرگز میں اس کی شکل کا دیکھا نہ چیں میں بتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)