Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلااحوال زار شاہ شہیدان کربلاMir Taqi Mir (1723–1810)
- نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوالاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہواMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیاشیوہ ستم کا تیرہ دلوں کو سکھا دیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائےپر ساتھ اس کے لپٹا ہوا دل کہیں نہ جائےMir Hasan (1727–1786)
- اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیںآباد یہ مکان کبھی ہے کبھی نہیںMir Hasan (1727–1786)
- اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کیجاتی ہے دور دور تک آواز رات کیMir Hasan (1727–1786)
- اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کربلبل کے پر پڑے ہیں گلوں پر نثار کرMir Hasan (1727–1786)
- ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تککیا جانے پھر جئیں نہ جئیں ہم بہار تکMir Hasan (1727–1786)
- رکھتا ہے صلح سب سے دل اس کا پہ مجھ سے جنگغیروں کے حق میں موم ہے اور میرے حق میں سنگMir Hasan (1727–1786)
- سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہےکار جہاں تمام کمینے پہ آ رہےMir Hasan (1727–1786)
- کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھےاے سیل اشک تو ہی بہا دے ادھر مجھےMir Hasan (1727–1786)
- کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سےدونی بہار دیوے ہے گلزار دور سےMir Hasan (1727–1786)
- مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہےتو دل میں ہے ہمارے ہمیں دل عزیز ہےMir Hasan (1727–1786)
- نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرضہے بھی جو کچھ غرض تو ہمیں یار سے غرضMir Hasan (1727–1786)
- نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریںعشق بتاں میں صبر خدا سے طلب کریںMir Hasan (1727–1786)
- وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہےاور اپنی دل دہی کا جو احوال ہے سو ہےMir Hasan (1727–1786)
- یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگےتو کچھ نہ کہہ کہ ہم غربا کو بری لگےMir Hasan (1727–1786)
- دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہےپر جان تو بھی ہو تو عجب سر زمین ہےMir Hasan (1727–1786)
- انکار ہم سے غیر سے اقرار بس جی بسدیکھے تمہارے ہم نے یہ اطوار بس جی بسNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیاسنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چھوٹا بڑا نہ کم نہ منجھولا ازار بندہے اس پری کا سب سے امولا ازار بندNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سمادیکھا تو ہر مکاں میں وہی ہے رہا سماNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیاپایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کاہیں جس کے سب صنم وہ صنم ہے فقیر کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہاکبر کے نام سے ہوا آباد آگرہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی ابپھر بزم ہوگی جب تو سمجھ لیجو جب کی جبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ساقی ظہور صبح و ترشح ہے نور کادے مے یہی تو وقت ہے نور و ظہور کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کاارنی پکارتا ہے سدا دم فقیر کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے ابیعنی وہ شوخ ہم سے خفا بے سبب ہے ابNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کہتے ہیں یاں کہ ”مجھ سا کوئی مہ جبیں نہیں”پیارے جو ہم سے پوچھو تو یاں کیا کہیں نہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھااپنا بھی اس طرف گزر عاشقانہ تھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیااسلام چھوڑ کفر لیا پھر کسی کو کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- لیتا ہے جان میری تو میں سر بدست ہوںاے یار میں تو کشتۂ روز الست ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نکلے ہو کس بہار سے تم زرد پوش ہوجس کی نوید پہنچی ہے رنگ بسنت کوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- روٹیاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- مفلسیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- آدمی نامہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- فناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- شب براتNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- عیدNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جھونپڑاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی باتآوارۂ وطن کو لگے خوش وطن کی باتQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسراہے تو ترا ہی عکس نمایاں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیاحرف سخاوت آہ زمانے سے اٹھ گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیاپر دیکھنے کا اس کے کہیں ڈھب نہ بن گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگارہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسراہاں کچھ جو ہے تو روضۂ رضواں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بنلگتا نہیں ہے جی کہیں لگا لگائے بنQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اس رشک مہ کی یاد دلاتی ہے چاندنیہر رات مجھ کو آ کے ستاتی ہے چاندنیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ایسا بھی کوئی کرے ہے خلل ملک دیں میں بتہرگز میں اس کی شکل کا دیکھا نہ چیں میں بتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)