Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جاجو ہو سکے تو بہرحال مسکرائے جاFani Badayuni (1879–1941)
- نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومرہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلومFani Badayuni (1879–1941)
- ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیںتمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظبتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجبکلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کرہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتاکسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتاسمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کوعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگیہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہےملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- سری کرشنSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتےکہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریںمرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- وطن کا راگChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مرثیہ گوپال کرشن گوکھلےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کےنسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیاہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلالگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کادلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرےوہ جن سوار تھا سر پر کہ سر سے در گزرےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنامکان اپنا زمین اپنی آسماں اپناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتےبتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رو کرتےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہےکھٹک رہا تھا جو دل میں وہ خار باقی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ترے نثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نےکہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نےQamar Jalalvi (1887–1968)
- سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہےاسے نہ سن جو کہانی سنی سنائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- کبھی جو آنکھ پہ گیسوئے یار ہوتا ہےشراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کونہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
- یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتیکہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
- اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرےتو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرےJigar Moradabadi (1890–1960)
- شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھاہمیں تو آپ نے امیدوار ہی رکھاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ادھر تو طول دیا ہے امید کو اس نےادھر حیات عطا کی ہے مختصر مجھ کوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کووہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
- وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتاتری گلی میں کہیں آسماں نہیں ملتاHadi Machlishahri (1890–1961)
- شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوسبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوسShad Lakhnavi (d. 1892)
- جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھااسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئیوہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سنا تو ہے کہ کبھی بے نیاز غم تھی حیاتدلائی یاد نگاہوں نے تیری کب کی باتFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہےبقول اس آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھییہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میںجنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیاحجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برساتتمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- میں دیر تک تجھے خود ہی نہ روکتا لیکنتو جس ادا سے اٹھا ہے اسی کا رونا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)