Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جاجو ہو سکے تو بہرحال مسکرائے جاFani Badayuni (1879–1941)
  2. نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومرہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلومFani Badayuni (1879–1941)
  3. ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیںتمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  4. صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظبتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  5. طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجبکلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  6. طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کرہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  7. رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتاکسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  8. وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتاسمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  9. جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کوعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  10. جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگیہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  11. یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہےملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  12. جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  13. سری کرشنSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  14. یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتےکہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  15. زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریںمرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  16. وطن کا راگChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  17. مرثیہ گوپال کرشن گوکھلےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  18. اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کےنسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  19. ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیاہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  20. چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلالگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  21. چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کادلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  22. خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرےوہ جن سوار تھا سر پر کہ سر سے در گزرےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  23. قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنامکان اپنا زمین اپنی آسماں اپناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  24. مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتےبتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رو کرتےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  25. ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہےکھٹک رہا تھا جو دل میں وہ خار باقی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  26. ترے نثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نےکہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نےQamar Jalalvi (1887–1968)
  27. سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہےاسے نہ سن جو کہانی سنی سنائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  28. کبھی جو آنکھ پہ گیسوئے یار ہوتا ہےشراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  29. کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کونہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
  30. یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتیکہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  31. اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرےتو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرےJigar Moradabadi (1890–1960)
  32. شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  33. نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  34. نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  35. کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھاہمیں تو آپ نے امیدوار ہی رکھاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  36. ادھر تو طول دیا ہے امید کو اس نےادھر حیات عطا کی ہے مختصر مجھ کوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  37. میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کووہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
  38. وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتاتری گلی میں کہیں آسماں نہیں ملتاHadi Machlishahri (1890–1961)
  39. شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوسبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوسShad Lakhnavi (d. 1892)
  40. جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھااسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  41. رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئیوہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  42. سنا تو ہے کہ کبھی بے نیاز غم تھی حیاتدلائی یاد نگاہوں نے تیری کب کی باتFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  43. فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہےبقول اس آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  44. کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھییہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  45. کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میںجنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  46. نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیاحجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  47. سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  48. مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  49. یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برساتتمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  50. میں دیر تک تجھے خود ہی نہ روکتا لیکنتو جس ادا سے اٹھا ہے اسی کا رونا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)