Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- کہا جو ہم نے ”ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو”کہا کہ اس لیے تم یاں جو غل مچاتے ہو”Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کہا یہ آج ہمیں فہم نے سنو صاحبیہ باغ دہر غنیمت ہے دیکھ لو صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھارقیب صبح کو منہ آنسوؤں سے دھوتا تھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلومملے گا دیکھیے کیوں کر وہ بت خدا معلومNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ دِن کو چین نہ راتوں کو خواب آنکھوں میںبھر آ رہا ہے تیرے غم سے آب آنکھوں میںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ سرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سینہ یاسمن میں صفائی ترے بدن کی سیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ لذتیں ہیں وہ ہنسنے میں اور نہ رونے میںجو کچھ مزا ہے ترے ساتھ مل کے سونے میںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سیلپٹ ہے یہ تو کسی زلف پر شکن کی سیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیںتو مہ کے طشت میں گھی کے چراغ چلتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہولی (نظیر اکبر آبادی, IV)Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہولی (نظیر اکبر آبادی, VII)Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رکھیں ہیں جی میں مگر مجھ سے بد گمانی آپجو میرے ہاتھ سے پیتے نہیں ہیں پانی آپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوںمنوں ہوں آپ ہی پھر آپھی روٹھ جاتا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیںمیں ان بتوں کی غرض آشنائیاں دیکھیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گر اور بھی مری تربت پہ یار ٹھہرے گاتو زیر خاک نہ یہ بے قرار ٹھہرے گاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- میں پہروں گھر میں پڑا دل سے بات کرتا ہوںجب اس کے شکل و شمائل سے بات کرتا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نسیم صبح چمن سے ادھر نہیں آتیہزار حیف کہ گل کی خبر نہیں آتیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نہ پوچھ عشق کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیاشب فراق میں ہم تلملائے ہیں کیا کیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- یہ دل وہ شیشہ ہے جھمکے ہے وہ پری جس میںبھرا ہے موئے بہ مو سحر سامری جس میںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہےیہ آگ عشق کی یا رب کدھر سے اتری ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلےتو اس کے سایہ سے جھٹ بن کے اک پری نکلےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہےامید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- قدم نہ رکھ مری چشم پرآب کے گھر میںبھرا ہے موج کا طوفاں حباب کے گھر میںShah Naseer (1756–1838)
- لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کاوہ کان دھر کے سنے کیا پیام عاشق کاShah Naseer (1756–1838)
- نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کاطریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کاShah Naseer (1756–1838)
- اڑے ہیں کوچۂ دلبر میں جان سے گزرےیہ جان کیا ہے کہ دونوں جہان سے گزرےLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخMah Laqa Chanda (1768–1824)
- طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتےظفر ہیں آگ سے پانی کی آرزو کرتےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتالبالب اپنے لہو کا پیالہ کیا کرتاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلومنہال کس کو کرے باغباں نہیں معلومHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرفپھرے ضمیر خبر جیسے مبتدا کی طرفHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھانہ سرو باغ کو اتنا کشیدہ ہونا تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتاقبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سےوگرنہ کرتے ہیں گل کار خار آنکھوں سےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- غم جگر شکن و درد جاں ستاں دیکھاتمہارے عشق میں کیا کیا نہ مہرباں دیکھاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گیا ہے جب سے دکھا جلوہ وہ پری رخسارنہ خواب دیدۂ گریاں میں ہے نہ دل کو قرارMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیںہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھویہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھوSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتےکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھاہوا سے خاک کو برسوں پریدہ ہونا تھاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کاگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کاMirza Ghalib (1797–1869)
- نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچMirza Ghalib (1797–1869)
- بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوارMirza Ghalib (1797–1869)
- حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیازدعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر درازMirza Ghalib (1797–1869)
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہMirza Ghalib (1797–1869)
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- بہارِ تعزیت آبادِ عشق ماتم ہےکہ تیغِ یار ہلالِ مہِ محرم ہےMirza Ghalib (1797–1869)