Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mutaqarib Musamman Salim

متقارب مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہاراتمہارے ہمارے ہمارا تمہاراPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  2. جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیںچلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیںMunir Shikohabadi (1814–1880)
  3. کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیںمرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  4. ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسےAmeer Minai (1829–1900)
  5. لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذجلے عشق سوزاں سے ہم اور کاغذJoshish Azimabadi (d. 1830)
  6. ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لیناکن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لیناDagh Dehlvi (1831–1905)
  7. ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھاحقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھاDagh Dehlvi (1831–1905)
  8. پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتےاجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟Dagh Dehlvi (1831–1905)
  9. تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیںتجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  10. شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیںیہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  11. مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیںکہ جو موت کو زندگی جانتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  12. ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہاراابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہاراDagh Dehlvi (1831–1905)
  13. نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہےفقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  14. تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوںتمھیں خود یہ کہہ دو برا چاہتا ہوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  15. حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیراکہ بیمار الفت مسیحا ہے تیراZaheer Dehlvi (1835–1911)
  16. رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑانہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  17. نصیحت گرو دل لگایا تو ہوتاکبھی خنجر عشق کھایا تو ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  18. وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیںبلائیں عداوت کی ہم لے رہے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  19. وہ نیرنگ الفت کو کیا جانتا ہےکہ اپنے سے مجھ کو جدا جانتا ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  20. جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہےقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  21. فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہچلے آئے ہیں جو کہ سینہ بہ سینہAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  22. وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والامرادیں غریبوں کی بر لانے والاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  23. جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیںمحالات کا سر قلم دیکھتے ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  24. ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہناکریں ناز تو ناز بردار رہناIsmail Meeruthi (1844–1917)
  25. سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیںمجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  26. کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہےکوئی پا رہا ہے کوئی کھو رہا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  27. نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کانہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. تعجب سے کہنے لگے بابو صاحبگورنمنٹ سید پہ کیوں مہرباں ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  29. اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کاتو بے جا بھی شکوہ بجا ہے کسی کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  30. جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیںوہ ایسے ہیں کچھ بھی نہیں جانتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  31. جوانی مئے ارغوانی سے اچھیمئے ارغوانی جوانی سے اچھیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  32. جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابلہوئے آج خنجر اٹھانے کے قابلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  33. نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیامرے عمر بھر اور مرنا نہ آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  34. نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماریکٹے کیا برس زندگانی ہماریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  35. رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہےیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہےBekhud Badayuni (1857–1912)
  36. بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دیتمہارے لیے زندگانی لٹا دیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  37. چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کرمجھے مار ڈالا مری جان ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  38. خدا بھی طرف دار نکلا تمہارایہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہاراBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  39. کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہےقیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  40. بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیںبہت ان کے عاشق جلائے گئے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  41. کسی کی کسی کو محبت نہیں ہےابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  42. میں چپ کم رہا اور رویا زیادہیقیناً زمیں کم ہے دریا زیادہParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  43. ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتےہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  44. کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیںوہی کر گزرتے ہیں جو ٹھانتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  45. ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسےپڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  46. ہمیں یاد رکھنا ہمیں یاد کرنااگر کوئی تازہ ستم یاد آئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  47. جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہےدوئی چھوڑ بندے خدا ایک ہی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  48. جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہےوہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  49. ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہےوہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  50. نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینامحبت کا یہ بھی ہے کوئی قریناHasrat Mohani (1875–1951)