Poetry
Mutaqarib Musamman Salim
متقارب مثمن سالم- تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہاراتمہارے ہمارے ہمارا تمہاراPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیںچلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیںمرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسےAmeer Minai (1829–1900)
- لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذجلے عشق سوزاں سے ہم اور کاغذJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لیناکن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لیناDagh Dehlvi (1831–1905)
- ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھاحقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھاDagh Dehlvi (1831–1905)
- پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتےاجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟Dagh Dehlvi (1831–1905)
- تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیںتجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیںیہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیںکہ جو موت کو زندگی جانتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہاراابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہاراDagh Dehlvi (1831–1905)
- نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہےفقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوںتمھیں خود یہ کہہ دو برا چاہتا ہوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیراکہ بیمار الفت مسیحا ہے تیراZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑانہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- نصیحت گرو دل لگایا تو ہوتاکبھی خنجر عشق کھایا تو ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیںبلائیں عداوت کی ہم لے رہے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- وہ نیرنگ الفت کو کیا جانتا ہےکہ اپنے سے مجھ کو جدا جانتا ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہےقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہچلے آئے ہیں جو کہ سینہ بہ سینہAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والامرادیں غریبوں کی بر لانے والاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیںمحالات کا سر قلم دیکھتے ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہناکریں ناز تو ناز بردار رہناIsmail Meeruthi (1844–1917)
- سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیںمجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہےکوئی پا رہا ہے کوئی کھو رہا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کانہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- تعجب سے کہنے لگے بابو صاحبگورنمنٹ سید پہ کیوں مہرباں ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کاتو بے جا بھی شکوہ بجا ہے کسی کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیںوہ ایسے ہیں کچھ بھی نہیں جانتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جوانی مئے ارغوانی سے اچھیمئے ارغوانی جوانی سے اچھیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابلہوئے آج خنجر اٹھانے کے قابلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیامرے عمر بھر اور مرنا نہ آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماریکٹے کیا برس زندگانی ہماریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہےیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہےBekhud Badayuni (1857–1912)
- بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دیتمہارے لیے زندگانی لٹا دیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کرمجھے مار ڈالا مری جان ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
- خدا بھی طرف دار نکلا تمہارایہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہاراBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہےقیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیںبہت ان کے عاشق جلائے گئے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کسی کی کسی کو محبت نہیں ہےابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- میں چپ کم رہا اور رویا زیادہیقیناً زمیں کم ہے دریا زیادہParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتےہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیںوہی کر گزرتے ہیں جو ٹھانتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسےپڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ہمیں یاد رکھنا ہمیں یاد کرنااگر کوئی تازہ ستم یاد آئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہےدوئی چھوڑ بندے خدا ایک ہی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہےوہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہےوہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینامحبت کا یہ بھی ہے کوئی قریناHasrat Mohani (1875–1951)