Poetry
Ramal Musaddas Makhbun Mahzuf
رمل مسدس مخبون محذوف- منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیںگھر سے واعظ کہیں فاضل تو نہیںسخی لکھنوی
- یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھےایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھےسخی لکھنوی
- دل سے باہر ہیں خریدار ابھیسامنے ہے بھرا بازار ابھیباقی صدیقی
- کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلطگل غلط غنچے غلط خار غلطباقی صدیقی
- مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہواتو کہاں آ کے عناں گیر ہواباقی صدیقی
- مرحلے زیست کے آسان ہوئےشہر کچھ اور بھی ویران ہوئےباقی صدیقی
- وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہیمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہیباقی صدیقی
- وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیںباقی صدیقی
- سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گاکس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گاخواجہ محمد وزیر
- نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلاوادیٔ خضر بیابان بلاخواجہ محمد وزیر
- اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیںخاک میں آپ ملاتے ہیں ہمیںامداد امام اثر
- کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہیتیری الفت میں اذیت ہی سہیPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہمہے یہ موجود جدھر جائیں گے ہمسعادت یار خان رنگین
- شہر لگتا ہے بیابان مجھےکہیں ملتا نہیں انسان مجھےیوسف ظفر
- ہم کو آغاز سفر مارتا ہےمارتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہےNadiya ambar lodhi
- روز دینے لگے آزار یہ کیااور سمجھتے ہو اسے پیار یہ کیاعاشق اکبرآبادی
- تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیںکیا تھی وہ راہ گزر یاد نہیںEjaz Obaid
- موت کو زیست ترستی ہے یہاںموت ہی کون سی سستی ہے یہاںمختار صدیقی
- کبھی مسجد کبھی مندر سے اٹھااک سوالی تھا ترے در سے اٹھاNaeem Saba
- عشق میں زیست کے آثار کہاںدشت میں سایۂ دیوار کہاںVahshi Kanpuri
- صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھایک سورج کو گریبان میں رکھAah Sambhali
- فصل گل آئی ہوا اور ہوئیباغ عالم کی فضا اور ہوئیمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظکہئے عاشق کو رہے خاک لحاظمرزا رحیم الدین حیا
- ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہماور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہمUnknown