Poetry
Ramal Musamman Mashkul
رمل مثمن مشکول- مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار رعناکہ خور اس کے حسن رخ کو لگا تکنے ذرہ آساNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوںمری آنکھیں بند کر دو کہ کسی کو میں نہ دیکھوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹاتو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹاکہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
- جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانیMirza Ghalib (1797–1869)
- مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتایہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتاAmeer Minai (1829–1900)
- عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتاکبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتانہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتاIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سےمجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہوہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہAllama Iqbal (1877–1938)
- وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازیمیرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازیAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہیکہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہیAllama Iqbal (1877–1938)
- دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہکہ یہی ہے اُمّتوں کے مَرضِ کُہن کا چارہAllama Iqbal (1877–1938)
- نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازیکہ خودی سے مَیں نے سِیکھی دوجہاں سے بے نیازیAllama Iqbal (1877–1938)
- اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتاتو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑیکہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہنہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہM. D. Taseer (1902–1950)
- ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتےکوئی وعدہ سچ جو ہوتا تو کچھ اعتبار کرتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچےشب و روز آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالمترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچےنہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچےAali Gopalpuri (1912–1980)
- ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہےوہ جو کیفیت نشے کی مے خوش گوار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسوتری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہEhsan Danish (1914–1982)
- تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھاShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچےShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کرShakeel Badayuni (1916–1970)
- کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارےنہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارےShakeel Badayuni (1916–1970)
- مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکاراترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیاراShakeel Badayuni (1916–1970)
- تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلےترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلےKaif Bhopali (1917–1991)
- وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانیابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانیVafa Barahi (1917–1993)
- کہوں کیا فسانۂ غم اسے کون مانتا ہےجو گزر رہی ہے مجھ پر مرا دل ہی جانتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نےکئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ ستارے جن کی خاطر کئی بیقرار صدیاںمری تیرہ بخت دنیا میں ستارہ وار جاگیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہمری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- بڑی مشکلوں سے کاٹا بڑے کرب سے گزاراترے بعد کوئی لمحہ جو ملا کبھی خوشی کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- ترا حسن ہے وہ صہبا کہ کوئی مثال کیا دےکبھی تشنگی بجھا دے کبھی تشنگی بڑھا دےGauhar Usmani (1924–2004)
- مری آرزو کا حاصل مری زیست کا سہاراترا اک حسیں تبسم ترا جلوۂ خود آراIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچےمجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچےKaleem Aajiz (1926–2015)
- میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کےوہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کےQamar Jameel (1927–2000)
- یہ قدم قدم کشاکش دل بے قرار کیا ہےجو یقیں نہ ہو عمل پر تو نشاط کار کیا ہےVaris Kirmani (1927–2012)
- کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہےغم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہے ہماری دوستی کا یہی مختصر فسانہترا شوق خودنمائی مرا ذوق عاشقانہJ. P. Saeed (b. 1932)
- مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہمری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہNaaz Muradabadi (b. 1936)
- مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہےمیں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)