Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mashkul

رمل مثمن مشکول
Poet
Meter
Clear
  1. مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار رعناکہ خور اس کے حسن رخ کو لگا تکنے ذرہ آساNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  2. جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوںمری آنکھیں بند کر دو کہ کسی کو میں نہ دیکھوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  3. مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹاتو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  4. مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹاکہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  5. یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
  6. جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانیMirza Ghalib (1797–1869)
  7. مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتایہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتاAmeer Minai (1829–1900)
  8. عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتاکبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  9. جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتانہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  10. کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سےمجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  11. تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہوہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہAllama Iqbal (1877–1938)
  12. وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازیمیرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازیAllama Iqbal (1877–1938)
  13. یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہیکہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہیAllama Iqbal (1877–1938)
  14. دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہکہ یہی ہے اُمّتوں کے مَرضِ کُہن کا چارہAllama Iqbal (1877–1938)
  15. نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازیکہ خودی سے مَیں نے سِیکھی دوجہاں سے بے نیازیAllama Iqbal (1877–1938)
  16. اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتاتو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  17. قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑیکہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  18. وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہنہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہM. D. Taseer (1902–1950)
  21. ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتےکوئی وعدہ سچ جو ہوتا تو کچھ اعتبار کرتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  22. کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچےشب و روز آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  23. یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالمترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  24. کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچےنہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچےAali Gopalpuri (1912–1980)
  25. ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  26. وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہےوہ جو کیفیت نشے کی مے خوش گوار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  27. یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسوتری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہEhsan Danish (1914–1982)
  28. تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھاShakeel Badayuni (1916–1970)
  29. غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچےShakeel Badayuni (1916–1970)
  30. غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کرShakeel Badayuni (1916–1970)
  31. کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  32. کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارےنہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارےShakeel Badayuni (1916–1970)
  33. مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکاراترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیاراShakeel Badayuni (1916–1970)
  34. تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلےترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلےKaif Bhopali (1917–1991)
  35. وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانیابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانیVafa Barahi (1917–1993)
  36. کہوں کیا فسانۂ غم اسے کون مانتا ہےجو گزر رہی ہے مجھ پر مرا دل ہی جانتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  37. کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نےکئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  38. یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  39. وہ ستارے جن کی خاطر کئی بیقرار صدیاںمری تیرہ بخت دنیا میں ستارہ وار جاگیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  40. میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہمری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  41. بڑی مشکلوں سے کاٹا بڑے کرب سے گزاراترے بعد کوئی لمحہ جو ملا کبھی خوشی کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  42. ترا حسن ہے وہ صہبا کہ کوئی مثال کیا دےکبھی تشنگی بجھا دے کبھی تشنگی بڑھا دےGauhar Usmani (1924–2004)
  43. مری آرزو کا حاصل مری زیست کا سہاراترا اک حسیں تبسم ترا جلوۂ خود آراIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  44. مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچےمجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچےKaleem Aajiz (1926–2015)
  45. میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کےوہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کےQamar Jameel (1927–2000)
  46. یہ قدم قدم کشاکش دل بے قرار کیا ہےجو یقیں نہ ہو عمل پر تو نشاط کار کیا ہےVaris Kirmani (1927–2012)
  47. کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہےغم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  48. ہے ہماری دوستی کا یہی مختصر فسانہترا شوق خودنمائی مرا ذوق عاشقانہJ. P. Saeed (b. 1932)
  49. مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہمری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہNaaz Muradabadi (b. 1936)
  50. مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہےمیں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)