Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیےہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دلاتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیںزندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کہہ دیا تو نے جو معصوم تو ہم ہیں معصومکہہ دیا تو نے گنہ گار گنہ گار ہیں ہمFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تم رضاؔ بن کے مسلمان جو کافر ہی رہےتم سے بہتر ہے وہ کافر جو مسلماں نہ ہواAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھاپھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھےعشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیداوہی میرا بھی خدا ہو مجھے منظور نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا ربمیرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- فاتحہ بھی ترے مرقد پہ پڑھوں یا نہ پڑھوںتجھ کو مردہ کہوں یا زندۂ جاوید کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کبھی انسان سے انسان محبت نہ کرےہاں محبت نہیں آسان محبت نہ کرےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئےاب تو سرکار ہی سرکار ہیں اغیار گئےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- درد منت کش درماں ہو ضروری تو نہیںزخم مرہم کا ہی خواہاں ہو ضروری تو نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کون سی جا ہے جہاں حسن کا شہرا نہ ہواعشق بیچارہ کہاں دہر میں رسوا نہ ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- یوں تصور میں کھلے گل ہیں تیری بات کے بعدجیسے گلشن میں نکھر جائے فضا رات کے بعدJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جس پہ اک بار جلے ہیں ترے قدموں کے چراغراستے وہ کبھی سنسان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کشی تیرے تصور کی رہی روز افزوںباہمی ربط کا ہر چند وہ نقشہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- عقل انساں نے بٹھا رکھے ہیں پہرے دل پردل کی کیا بات کہے گا جو نہ دیوانہ بنےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- عمر اپنی تو اسی طور سے گزری ہے حبیبؔرہا طوفاں ہی نگاہوں میں کنارہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- نہ تمنا ہے تری اور نہ وہ درد تپشدل کے مرنے کا مجھے اب تو یقیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئےلخت دل بن کے نکل جائیں گے غم کھائے ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیےسینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسمہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسمAkhtar Shirani (1905–1948)
- اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئیلالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
- سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلےگنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلےAkhtar Shirani (1905–1948)
- یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرواپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کروAkhtar Shirani (1905–1948)
- یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئیاے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
- گجرات کی راتAkhtar Shirani (1905–1948)
- نہ سہی خلد جہنم ہی عطا ہو تو سہیکوئی ناکردہ گناہوں کی سزا ہو تو سہیFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیںعشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیافصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیںتیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریکرات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کروابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- وہ کرم ہو کہ ستم ایک تعلق ہے ضرورکوئی تو درد محبت کا امیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیںکہ یہی مقصد ارباب فنا ہے کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
- جس قدر جذب محبت کا اثر ہوتا گیاعشق خود ترک و طلب سے بے خبر ہوتا گیاQamar Moradabadi (1910–1987)
- جیسے ہم بزم ہیں پھر یار طرح دار سے ہمرات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- فکر دل دارئ گلزار کروں یا نہ کروںذکر مرغان گرفتار کروں یا نہ کروںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگیوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیںتیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سرابFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گلشن یاد میں گر آج دم باد صباپھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ایک جلا وطن کی واپسیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- فکرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- تو پیمبر سہی یہ معجزہ کافی تو نہیںشاعری زیست کے زخموں کی تلافی تو نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیےکیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- وہ جئیں کیا جنہیں جینے کا ہنر بھی نہ ملادشت میں خاک اڑاتے رہے گھر بھی نہ ملاAale Ahmad Suroor (1911–2002)