Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیےہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  2. تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دلاتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  3. کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیںزندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  4. کہہ دیا تو نے جو معصوم تو ہم ہیں معصومکہہ دیا تو نے گنہ گار گنہ گار ہیں ہمFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  5. تم رضاؔ بن کے مسلمان جو کافر ہی رہےتم سے بہتر ہے وہ کافر جو مسلماں نہ ہواAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  6. دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھاپھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  7. مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھےعشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  8. جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیداوہی میرا بھی خدا ہو مجھے منظور نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  9. دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا ربمیرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  10. فاتحہ بھی ترے مرقد پہ پڑھوں یا نہ پڑھوںتجھ کو مردہ کہوں یا زندۂ جاوید کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  11. کبھی انسان سے انسان محبت نہ کرےہاں محبت نہیں آسان محبت نہ کرےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  12. کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئےاب تو سرکار ہی سرکار ہیں اغیار گئےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  13. درد منت کش درماں ہو ضروری تو نہیںزخم مرہم کا ہی خواہاں ہو ضروری تو نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. کون سی جا ہے جہاں حسن کا شہرا نہ ہواعشق بیچارہ کہاں دہر میں رسوا نہ ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. یوں تصور میں کھلے گل ہیں تیری بات کے بعدجیسے گلشن میں نکھر جائے فضا رات کے بعدJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  16. جس پہ اک بار جلے ہیں ترے قدموں کے چراغراستے وہ کبھی سنسان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  17. دل کشی تیرے تصور کی رہی روز افزوںباہمی ربط کا ہر چند وہ نقشہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  18. عقل انساں نے بٹھا رکھے ہیں پہرے دل پردل کی کیا بات کہے گا جو نہ دیوانہ بنےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  19. عمر اپنی تو اسی طور سے گزری ہے حبیبؔرہا طوفاں ہی نگاہوں میں کنارہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  20. نہ تمنا ہے تری اور نہ وہ درد تپشدل کے مرنے کا مجھے اب تو یقیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  21. ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئےلخت دل بن کے نکل جائیں گے غم کھائے ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  22. عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیےسینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  23. آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسمہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسمAkhtar Shirani (1905–1948)
  24. اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئیلالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  25. سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلےگنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلےAkhtar Shirani (1905–1948)
  26. یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرواپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کروAkhtar Shirani (1905–1948)
  27. یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئیاے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  28. گجرات کی راتAkhtar Shirani (1905–1948)
  29. نہ سہی خلد جہنم ہی عطا ہو تو سہیکوئی ناکردہ گناہوں کی سزا ہو تو سہیFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  30. اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیںعشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  31. حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیافصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  32. غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیںتیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  33. اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریکرات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  34. دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کروابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  35. وہ کرم ہو کہ ستم ایک تعلق ہے ضرورکوئی تو درد محبت کا امیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  36. سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیںکہ یہی مقصد ارباب فنا ہے کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
  37. جس قدر جذب محبت کا اثر ہوتا گیاعشق خود ترک و طلب سے بے خبر ہوتا گیاQamar Moradabadi (1910–1987)
  38. جیسے ہم بزم ہیں پھر یار طرح دار سے ہمرات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  39. فکر دل دارئ گلزار کروں یا نہ کروںذکر مرغان گرفتار کروں یا نہ کروںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  40. یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگیوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  41. پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  42. دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیںتیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سرابFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  43. گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  44. گلشن یاد میں گر آج دم باد صباپھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  45. مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  46. ایک جلا وطن کی واپسیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  47. فکرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  48. تو پیمبر سہی یہ معجزہ کافی تو نہیںشاعری زیست کے زخموں کی تلافی تو نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  49. لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیےکیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  50. وہ جئیں کیا جنہیں جینے کا ہنر بھی نہ ملادشت میں خاک اڑاتے رہے گھر بھی نہ ملاAale Ahmad Suroor (1911–2002)