Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. لاہور و کراچیAllama Iqbal (1877–1938)
  2. نبوتAllama Iqbal (1877–1938)
  3. زمانہ حاضر کا انسانAllama Iqbal (1877–1938)
  4. اقوام مشرقAllama Iqbal (1877–1938)
  5. حکومتAllama Iqbal (1877–1938)
  6. مہمان عزیزAllama Iqbal (1877–1938)
  7. عصر حاضرAllama Iqbal (1877–1938)
  8. عورتAllama Iqbal (1877–1938)
  9. اپنے شعر سےAllama Iqbal (1877–1938)
  10. ادبیاتAllama Iqbal (1877–1938)
  11. مسجد قوت الاسلامAllama Iqbal (1877–1938)
  12. مخلوقات ہنرAllama Iqbal (1877–1938)
  13. سرود حلالAllama Iqbal (1877–1938)
  14. رقصAllama Iqbal (1877–1938)
  15. اہل مصر سےAllama Iqbal (1877–1938)
  16. عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَسپرِ شہباز سے ممکن نہیں پروازِ مگَسAllama Iqbal (1877–1938)
  17. جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوشپھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغِ خاموشAllama Iqbal (1877–1938)
  18. سر اکبر حیدری، صدر اعظم حیدر آباد دکن کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
  19. اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریںنفَسِ سوختۂ شام و سحَر تازہ کریںAllama Iqbal (1877–1938)
  20. اس نے حال دل ناشاد نہ دیکھا نہ سناایسا ظالم ستم ایجاد نہ دیکھا نہ سناFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  21. تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کروبندہ پرور ہمیں ہر روز ستایا نہ کروFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  22. زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیںہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیںFani Badayuni (1879–1941)
  23. ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہےاس میں اب شاد رہے یا کوئی ناشاد رہےFani Badayuni (1879–1941)
  24. وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہمبے خودی کچھ تو بتا کس کے طلب گار ہیں ہمFani Badayuni (1879–1941)
  25. مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہآئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  26. اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کرخط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  27. آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہےیہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  28. درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریںعرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  29. شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھےمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  30. کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہوستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  31. حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنےہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  32. اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیںمر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیاChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  33. ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہےساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  34. دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیںخواب آنکھوں نے بہت دیکھے مگر یاد نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  35. دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہارجلوہ گر خواب میں رہنے لگی تصویر بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  36. دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبراب کہاں وحشیوں کو جیب و گریباں کی خبرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  37. صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیںمیں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
  38. عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیںتیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
  39. نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنےجان مے خانہ تری نرگس مستانہ بنےAsghar Gondvi (1884–1936)
  40. شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیںاور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  41. داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئیبات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  42. کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جامآج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  43. بعد مرنے کے بھی ارمان یہی ہے اے دوستروح میری ترے آغوش محبت میں رہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  44. درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریبمیری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریبHadi Machlishahri (1890–1961)
  45. پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیادرد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیاShad Lakhnavi (d. 1892)
  46. لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوںشل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
  47. آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھاوہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  48. دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھاہے یہ آئین محبت مجھے معلوم نہ تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  49. کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہےاس کا الزام تغافل پہ کچھ انکار تو ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  50. ہو کے سر تا بہ قدم عالم اسرار چلاجو چلا مے کدۂ عشق سے سرشار چلاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)