حکومت

Allama Iqbal (1877–1938)

ہے مُریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن

شیخ و مُلّا کو بُری لگتی ہے درویش کی بات

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاعِ کردار

بحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و صفات

گرچہ اس دَیرِ کُہن کا ہے یہ دستورِ قدیم

کہ نہیں مے کدہ و ساقی و مِینا کو ثبات

قسمتِ بادہ مگر حق ہے اُسی ملّت کا

انگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخابِ حیات!