رقص

Allama Iqbal (1877–1938)

چھوڑ یورپ کے لیے رقصِ بدن کے خم و پیچ

رُوح کے رقص میں ہے ضربِ کِلیم اللّٰہی!

صِلہ اُس رقص کا ہے تشنگیِ کام و دہن

صِلہ اِس رقص کا درویشی و شاہنشاہی!