Poetry
Jameel Musamman Salim
جمیل مثمن سالم- نئی محبت کی داستانیں رقم کریں گے تو ہم کریں گےدلوں میں بڑھتی ہوئی خلیجوں کو کم کریں گے تو ہم کریں گےNadeem Najid
- یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کرجو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کربیان میرٹھی
- ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسمنظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسمEhtisham ul Haq Siddiqui
- شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دیناکہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دیناEhtisham ul Haq Siddiqui
- کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہےجہاں میں وحشت بھٹک رہی ہے ہزار سر کو پٹک رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیںیقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایاگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کرناطق لکھنوی
- دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کرہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کرگویا فقیر محمد
- بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہےہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہےآغا شاعر قزلباش
- فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیںخدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
- ہماری آنکھوں کے آگے محفل میں دور جام و سبو چلے ہیںبس ایک ہم ہیں کہ تیری محفل سے پی کے اپنا لہو چلے ہیںPanna Lal Noor
- نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گیاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گیسید محمد عبد الغفور شہباز
- جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کاوہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کاQadr Bilgrami
- معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہےکہ تیرے در کے سوا مرا سر کسی کے در پر جھکا نہیں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
- نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہےعجیب عالم ہے بیکسی کا نظر سے حسرت ٹپک رہی ہےTahavvur Ali Zaidi
- تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تکحیات کا اعتبار ہو بھی نگاہ کا اعتبار کب تکEhsas Muradabadi
- بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہےحیات میں دل کشی نہیں ہے حیات میں انتشار سا ہےنہال سیوہاروی
- وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میریکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کربشیر الدین احمد دہلوی
- قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہےخدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- دلوں سے جب دور ہوگی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گیجہاں سے تاریکیاں مٹیں گی قدم قدم روشنی ملے گیHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلےرہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلےHabeeb Saifi
- تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیںسپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیںاثر صہبائی
- نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنایہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھناGhazal Ansari
- اداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہےیہ کپ میں چائے نہیں ہے پرسوں سے ایک لمحہ پڑا ہوا ہےNaeem Naaz
- غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میںفضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میںتاجور نجیب آبادی
- مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہےابھی وہ نام خدا ہے غنچہ نسیم چھو بھی نہیں گئی ہےکرامت علی شہیدی
- کنار دریا جنون طوفاں ہر ایک گوہر کی آب میں ہوںبغیر میرے سبھی ہیں پانی کہ موجوں کا اضطراب میں ہوںJai Prakash Ghafil
- ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیںکدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیںمیر محمد سلطان عاقل
- صباؔ یہ ان سے کہو کہ مجھ پہ نوازشیں بے حساب لکھنامرے مقدر میں نیند لکھنا نہ رات لکھنا نہ خواب لکھناSaba Shah
- خدا کا مطلب ہے خود میں آ تو خود آگہی ہے خدا شناسیخدا کو خود سے جدا سمجھ کر بھٹک رہا ہے ادھر ادھر کیوںAamil Darvesh
- یقیں نہ والیل پر کریں گے جو تیرے گیسو نہ دیکھ لیں گےرہیں گے مصحف سے بلکہ منکر جو تیرے رو کو نہ دیکھ لیں گےLateefunnisa Lateef