Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Jameel Musamman Salim

جمیل مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. نئی محبت کی داستانیں رقم کریں گے تو ہم کریں گےدلوں میں بڑھتی ہوئی خلیجوں کو کم کریں گے تو ہم کریں گےNadeem Najid
  2. یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کرجو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کربیان میرٹھی
  3. ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسمنظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسمEhtisham ul Haq Siddiqui
  4. شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دیناکہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دیناEhtisham ul Haq Siddiqui
  5. کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہےجہاں میں وحشت بھٹک رہی ہے ہزار سر کو پٹک رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  6. تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیںیقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
  7. مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایاگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کرناطق لکھنوی
  8. دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کرہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کرگویا فقیر محمد
  9. بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہےہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہےآغا شاعر قزلباش
  10. فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیںخدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیںبھارتیندو ہریش چندر
  11. ہماری آنکھوں کے آگے محفل میں دور جام و سبو چلے ہیںبس ایک ہم ہیں کہ تیری محفل سے پی کے اپنا لہو چلے ہیںPanna Lal Noor
  12. نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گیاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گیسید محمد عبد الغفور شہباز
  13. جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کاوہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کاQadr Bilgrami
  14. معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہےکہ تیرے در کے سوا مرا سر کسی کے در پر جھکا نہیں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
  15. نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہےعجیب عالم ہے بیکسی کا نظر سے حسرت ٹپک رہی ہےTahavvur Ali Zaidi
  16. تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تکحیات کا اعتبار ہو بھی نگاہ کا اعتبار کب تکEhsas Muradabadi
  17. بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہےحیات میں دل کشی نہیں ہے حیات میں انتشار سا ہےنہال سیوہاروی
  18. وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میریکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کربشیر الدین احمد دہلوی
  19. قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہےخدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
  20. دلوں سے جب دور ہوگی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گیجہاں سے تاریکیاں مٹیں گی قدم قدم روشنی ملے گیHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
  21. برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلےرہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلےHabeeb Saifi
  22. تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیںسپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیںاثر صہبائی
  23. نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنایہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھناGhazal Ansari
  24. اداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہےیہ کپ میں چائے نہیں ہے پرسوں سے ایک لمحہ پڑا ہوا ہےNaeem Naaz
  25. غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میںفضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میںتاجور نجیب آبادی
  26. مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہےابھی وہ نام خدا ہے غنچہ نسیم چھو بھی نہیں گئی ہےکرامت علی شہیدی
  27. کنار دریا جنون طوفاں ہر ایک گوہر کی آب میں ہوںبغیر میرے سبھی ہیں پانی کہ موجوں کا اضطراب میں ہوںJai Prakash Ghafil
  28. ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیںکدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیںمیر محمد سلطان عاقل
  29. صباؔ یہ ان سے کہو کہ مجھ پہ نوازشیں بے حساب لکھنامرے مقدر میں نیند لکھنا نہ رات لکھنا نہ خواب لکھناSaba Shah
  30. خدا کا مطلب ہے خود میں آ تو خود آگہی ہے خدا شناسیخدا کو خود سے جدا سمجھ کر بھٹک رہا ہے ادھر ادھر کیوںAamil Darvesh
  31. یقیں نہ والیل پر کریں گے جو تیرے گیسو نہ دیکھ لیں گےرہیں گے مصحف سے بلکہ منکر جو تیرے رو کو نہ دیکھ لیں گےLateefunnisa Lateef