Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Bahr-e Zamzama Mutadarik Musamman Muza'af

بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف
Poet
Meter
Clear
  1. اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراقبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئیAllama Iqbal (1877–1938)
  2. مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکاAllama Iqbal (1877–1938)
  3. ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہےواں کنڑ سب بلّوری ہیں یاں ایک پُرانا مٹکا ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  4. جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہےکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
  5. بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسممرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسمAagha Akbarabadi (b. 1879)
  6. درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہےبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  7. اب کیسے رفو پیراہن ہو اس آوارہ دیوانے کاکیا جانے گریباں ہوگا کہاں دامن سے بڑا ویرانے کاQamar Jalalvi (1887–1968)
  8. کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیںغنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  9. اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیںفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  10. اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہےکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  11. تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیںکر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  12. قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہےگھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہےAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  13. جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانویہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانوAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  14. مٹ جائیں ملک سے بغض و حسد اور دل میں وطن کی عزت ہودامن میں فضاؤں کے ہر جا اک امن و سکوں کی ثروت ہوLala Anoop Chand Aaftab Panipati (1896–1968)
  15. کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہےاب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  16. خود اپنی پرستش کرتے ہیں کچھ دیر و حرم سے کام نہیںوہ طرز نیاز خاص ہے یہ جو کفر نہیں اسلام نہیںHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
  17. وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھامے خانے کا مے خانہ تھا پیمانے کا پیمانہ تھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  18. الفت کے فسانے ماضی کے کچھ بھولے کچھ یاد آ بھی گئےغم کے بادل دل پہ مرے کچھ چھٹ بھی گئے کچھ چھا بھی گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  19. جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میںانسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میںJaimini Sarshar (1904–1984)
  20. گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہمکہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہمAkhtar Shirani (1905–1948)
  21. خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیںہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
  22. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیںصد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  23. کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھاکیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  24. کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہےہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  25. کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جان جہاں غماز کیااعلان جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  26. دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گےکچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  27. تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  28. کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئےوہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  29. نذر علی گڑھMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  30. کلرک کا نغمۂ محبتMeeraji (1912–1949)
  31. یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہےنغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  32. ہم کتنا روئے تھے جب اک دن سوچا تھا ہم مر جائیں گےاور ہم سے ہر نعمت کی لذت کا احساس جدا ہو جائے گاAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  33. اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیںپائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  34. تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھےبے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  35. ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھےمشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  36. اللہ ی کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہےآنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  37. اک جام کھنکتا جام کہ ساقی رات گزرنے والی ہےاک ہوش ربا انعام کہ ساقی رات گزرنے والی ہےQateel Shifai (1919–2001)
  38. الفت کی نئی منزل کو چلا تو بانہیں ڈال کے بانہوں میںدل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
  39. اے دیدۂ گریاں کیا کہیے اس پیار بھرے افسانے کواک شمع جلی بجھنے کے لیے اک پھول کھلا مرجھانے کوQateel Shifai (1919–2001)
  40. حالات کی اجڑی محفل میں اب کوئی سلگتا ساز نہیںنغمے تو لپکتے ہیں لیکن شعلوں سا کہیں انداز نہیںQateel Shifai (1919–2001)
  41. حالات کی بھیگی رات بھی ہے جذبات کا تیز الاؤ بھیمیں کون سی آگ میں جل جاؤں اے نکتہ ورو سمجھاؤ بھیQateel Shifai (1919–2001)
  42. کچھ غنچہ لبوں کی یاد آئی کچھ گل بدنوں کی یاد آئیجو آنکھ جھپکتے بیت گئیں ان انجمنوں کی یاد آئیQateel Shifai (1919–2001)
  43. گھنگھور گھٹا کے آنچل کو جب کالی رات نچوڑ گئیاک تنہائی کو چین ملا اک تنہائی دم توڑ گئیQateel Shifai (1919–2001)
  44. یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جییہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جیQateel Shifai (1919–2001)
  45. یا دل کی سنو دنیا والو یا مجھ کو ابھی چپ رہنے دومیں غم کو خوشی کیسے کہہ دوں جو کہتے ہیں ان کو کہنے دوKaifi Azmi (1919–2002)
  46. آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  47. تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  48. جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میںجیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  49. رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرحبیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  50. بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہےہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)