Poetry
Bahr-e Zamzama Mutadarik Musamman Muza'af
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف- اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراقبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئیAllama Iqbal (1877–1938)
- مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکاAllama Iqbal (1877–1938)
- ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہےواں کنڑ سب بلّوری ہیں یاں ایک پُرانا مٹکا ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہےکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
- بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسممرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسمAagha Akbarabadi (b. 1879)
- درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہےبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- اب کیسے رفو پیراہن ہو اس آوارہ دیوانے کاکیا جانے گریباں ہوگا کہاں دامن سے بڑا ویرانے کاQamar Jalalvi (1887–1968)
- کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیںغنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
- اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیںفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہےکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیںکر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہےگھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہےAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانویہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانوAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- مٹ جائیں ملک سے بغض و حسد اور دل میں وطن کی عزت ہودامن میں فضاؤں کے ہر جا اک امن و سکوں کی ثروت ہوLala Anoop Chand Aaftab Panipati (1896–1968)
- کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہےاب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- خود اپنی پرستش کرتے ہیں کچھ دیر و حرم سے کام نہیںوہ طرز نیاز خاص ہے یہ جو کفر نہیں اسلام نہیںHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
- وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھامے خانے کا مے خانہ تھا پیمانے کا پیمانہ تھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- الفت کے فسانے ماضی کے کچھ بھولے کچھ یاد آ بھی گئےغم کے بادل دل پہ مرے کچھ چھٹ بھی گئے کچھ چھا بھی گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میںانسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میںJaimini Sarshar (1904–1984)
- گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہمکہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہمAkhtar Shirani (1905–1948)
- خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیںہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
- کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیںصد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھاکیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہےہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جان جہاں غماز کیااعلان جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گےکچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئےوہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نذر علی گڑھMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کلرک کا نغمۂ محبتMeeraji (1912–1949)
- یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہےنغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہم کتنا روئے تھے جب اک دن سوچا تھا ہم مر جائیں گےاور ہم سے ہر نعمت کی لذت کا احساس جدا ہو جائے گاAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیںپائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھےبے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھےمشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اللہ ی کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہےآنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- اک جام کھنکتا جام کہ ساقی رات گزرنے والی ہےاک ہوش ربا انعام کہ ساقی رات گزرنے والی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- الفت کی نئی منزل کو چلا تو بانہیں ڈال کے بانہوں میںدل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
- اے دیدۂ گریاں کیا کہیے اس پیار بھرے افسانے کواک شمع جلی بجھنے کے لیے اک پھول کھلا مرجھانے کوQateel Shifai (1919–2001)
- حالات کی اجڑی محفل میں اب کوئی سلگتا ساز نہیںنغمے تو لپکتے ہیں لیکن شعلوں سا کہیں انداز نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- حالات کی بھیگی رات بھی ہے جذبات کا تیز الاؤ بھیمیں کون سی آگ میں جل جاؤں اے نکتہ ورو سمجھاؤ بھیQateel Shifai (1919–2001)
- کچھ غنچہ لبوں کی یاد آئی کچھ گل بدنوں کی یاد آئیجو آنکھ جھپکتے بیت گئیں ان انجمنوں کی یاد آئیQateel Shifai (1919–2001)
- گھنگھور گھٹا کے آنچل کو جب کالی رات نچوڑ گئیاک تنہائی کو چین ملا اک تنہائی دم توڑ گئیQateel Shifai (1919–2001)
- یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جییہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جیQateel Shifai (1919–2001)
- یا دل کی سنو دنیا والو یا مجھ کو ابھی چپ رہنے دومیں غم کو خوشی کیسے کہہ دوں جو کہتے ہیں ان کو کہنے دوKaifi Azmi (1919–2002)
- آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میںجیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرحبیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہےہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)