Poetry
- امنگوں میں وہی جوش تمنا زاد باقی ہےابھی دل میں خدا رکھے کسی کی یاد باقی ہےYaqoob Usmani
- تضاد اچھا نہیں طرز بیاں کا ہم زبانوں میںحقیقت کو چھپاتا جا رہا ہوں داستانوں میںYaqoob Usmani
- چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلومکتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلومYaqoob Usmani
- حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہےمکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہےYaqoob Usmani
- خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہاطوفاں کی زد سے دور کنارا نہیں رہاYaqoob Usmani
- زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہےبظاہر یہ توجہ چارہ گر کچھ اور کہتی ہےYaqoob Usmani
- شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کوغم تو غم آج خوشی بھی ہے گوارا مجھ کوYaqoob Usmani
- صبر خود اکتا گیا اچھا ہواکچھ تو بوجھ احساس کا ہلکا ہواYaqoob Usmani
- طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیاساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیاYaqoob Usmani
- کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھانہ زندگی کی خوشی ہی اچھی نہ بے ثباتی کا غم ہی اچھاYaqoob Usmani
- مذاق کاوش پنہاں اب اتنا عام کیا ہوگازباں پر ہم صفیروں کی مرا پیغام کیا ہوگاYaqoob Usmani
- میں چاہوں بھی تو ضبط گفتگو میں لا نہیں سکتاسمجھنے پر بھی دل کا مدعا سمجھا نہیں سکتاYaqoob Usmani
- نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوںفریب آشیاں ہے اور میں ہوںYaqoob Usmani
- وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیںہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیںYaqoob Usmani
- قدم قدم پہ حوادث نے رہنمائی کیرواں ہے جادۂ منزل پہ کاروان خیالYaqoob Usmani