Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرناشام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرناQamar Jameel (1927–2000)
  2. آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہےمیری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہےQamar Jameel (1927–2000)
  3. اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میںمیں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میںQamar Jameel (1927–2000)
  4. ایک پتھر کہ دست یار میں ہےپھول بننے کے انتظار میں ہےQamar Jameel (1927–2000)
  5. ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کادیکھو آیا موسم سرخ چراغوں کاQamar Jameel (1927–2000)
  6. جانے دو ان نغموں کو آہنگ شکست ساز نہ سمجھودرد بھری آواز تو سن لو درد بھری آواز نہ سمجھوQamar Jameel (1927–2000)
  7. خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہےآئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہےQamar Jameel (1927–2000)
  8. دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریںنرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریںQamar Jameel (1927–2000)
  9. سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرحہم آ گئے ہیں کس طرف تم کو بتائیں کس طرحQamar Jameel (1927–2000)
  10. شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھاپھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھاQamar Jameel (1927–2000)
  11. کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیںآسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر خوابیدہ ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  12. میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کےوہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کےQamar Jameel (1927–2000)
  13. وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھامرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
  14. ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیںروئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  15. اولحلقۂ یاراں میں کنعاں رات کے پچھلے پہرQamar Jameel (1927–2000)
  16. اے رونے والے بادلچپ ہو جاQamar Jameel (1927–2000)
  17. بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیںمجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  18. جب میں بچہ تھاراوی کے گالوں سے ڈرتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
  19. خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلابجنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغQamar Jameel (1927–2000)
  20. سورج سے آگے اک جنگل ہےمیں اس جنگل کا دیا ہوںQamar Jameel (1927–2000)
  21. شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھایسے سفر میں اتنی تھکن میں کیسے کٹے گی راتQamar Jameel (1927–2000)
  22. شہر کی گلیوں کے روشن زاویےرات کی تنہائیوں کے ہم سفرQamar Jameel (1927–2000)
  23. میری آنکھیں میری جانتیرا عبادت خانہQamar Jameel (1927–2000)
  24. میری محبت چاہتی ہے مینارے گھر کے شوالوں کےکچھ باتیں مکے والوں کی کچھ قصے بنارس والوں کےQamar Jameel (1927–2000)
  25. میں اپنے گھر میں دیئے کی طرحجلنا چاہتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
  26. میں ایک بوڑھے برگد کا درخت ہوںجس کی شاخیں کٹ چکی ہیں اور پتےQamar Jameel (1927–2000)
  27. یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےQamar Jameel (1927–2000)
  28. یہ سماں اور رات کی جادوگریچاند کا لے کر چلی ہاتھوں میں تاجQamar Jameel (1927–2000)
  29. آدم کی پہلی آوازان پتھروں میں اب بھیQamar Jameel (1927–2000)
  30. ایشیا کی اس ویران پہاڑی پرموت ایک خانہ بدوش لڑکی کی طرحQamar Jameel (1927–2000)
  31. بن مانس کے کالے بدن پرہیرے چمکتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  32. تم مجھے قتل نہ کرومیں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گاQamar Jameel (1927–2000)
  33. میں حسن مطلق کی کرسی پربیٹھ کرQamar Jameel (1927–2000)