Poetry
- آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرناشام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرناQamar Jameel (1927–2000)
- آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہےمیری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہےQamar Jameel (1927–2000)
- اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میںمیں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میںQamar Jameel (1927–2000)
- ایک پتھر کہ دست یار میں ہےپھول بننے کے انتظار میں ہےQamar Jameel (1927–2000)
- ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کادیکھو آیا موسم سرخ چراغوں کاQamar Jameel (1927–2000)
- جانے دو ان نغموں کو آہنگ شکست ساز نہ سمجھودرد بھری آواز تو سن لو درد بھری آواز نہ سمجھوQamar Jameel (1927–2000)
- خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہےآئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہےQamar Jameel (1927–2000)
- دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریںنرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریںQamar Jameel (1927–2000)
- سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرحہم آ گئے ہیں کس طرف تم کو بتائیں کس طرحQamar Jameel (1927–2000)
- شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھاپھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھاQamar Jameel (1927–2000)
- کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیںآسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر خوابیدہ ہیںQamar Jameel (1927–2000)
- میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کےوہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کےQamar Jameel (1927–2000)
- وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھامرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
- ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیںروئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
- اولحلقۂ یاراں میں کنعاں رات کے پچھلے پہرQamar Jameel (1927–2000)
- اے رونے والے بادلچپ ہو جاQamar Jameel (1927–2000)
- بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیںمجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیںQamar Jameel (1927–2000)
- جب میں بچہ تھاراوی کے گالوں سے ڈرتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
- خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلابجنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغQamar Jameel (1927–2000)
- سورج سے آگے اک جنگل ہےمیں اس جنگل کا دیا ہوںQamar Jameel (1927–2000)
- شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھایسے سفر میں اتنی تھکن میں کیسے کٹے گی راتQamar Jameel (1927–2000)
- شہر کی گلیوں کے روشن زاویےرات کی تنہائیوں کے ہم سفرQamar Jameel (1927–2000)
- میری آنکھیں میری جانتیرا عبادت خانہQamar Jameel (1927–2000)
- میری محبت چاہتی ہے مینارے گھر کے شوالوں کےکچھ باتیں مکے والوں کی کچھ قصے بنارس والوں کےQamar Jameel (1927–2000)
- میں اپنے گھر میں دیئے کی طرحجلنا چاہتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
- میں ایک بوڑھے برگد کا درخت ہوںجس کی شاخیں کٹ چکی ہیں اور پتےQamar Jameel (1927–2000)
- یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےQamar Jameel (1927–2000)
- یہ سماں اور رات کی جادوگریچاند کا لے کر چلی ہاتھوں میں تاجQamar Jameel (1927–2000)
- آدم کی پہلی آوازان پتھروں میں اب بھیQamar Jameel (1927–2000)
- ایشیا کی اس ویران پہاڑی پرموت ایک خانہ بدوش لڑکی کی طرحQamar Jameel (1927–2000)
- بن مانس کے کالے بدن پرہیرے چمکتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
- تم مجھے قتل نہ کرومیں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گاQamar Jameel (1927–2000)
- میں حسن مطلق کی کرسی پربیٹھ کرQamar Jameel (1927–2000)