Poetry
- اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفےگھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میںدھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہناہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میںاب آ گئے ہیں دیدہ وروں کے ہجوم میںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہےراہیں ڈھونڈے منزل پائے انساں کتنا پیارا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شامساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شامOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تمہی سردار ہو گلشن کے یہ بتلا دیناکوئی ہمسر ہو تو دیوار میں چنوا دیناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گاآنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گاOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گےہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیںلوگ سودا ہیں خریدار ہیں تیری آنکھیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگدامان تار تار ہیں میرے یہاں کے لوگOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہےمیں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجےاک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اقلیت کہیں کی ہو تہ خنجر ہی رہتی ہےہلاکت خیز ہاتھوں کے ہزاروں جبر سہتی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اے لیلیٔ جمہوریتاے دلبر ہندوستاںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیںوقت بے رحم اک سپاہی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- دبلا پتلا نازک دوراںؔشیشہ جیسا نازک دوراںؔOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہےجام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- سہیلی یوں تو کچھ کچھ سانولے سے ہیں مرے ساجنمگر تیری قسم بے حد رسیلے ہیں مرے ساجنOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- یہ ایڈن گارڈن ہمدم نگاہ و دل کی جنت ہےیہاں حوا کی رنگیں بیٹیاں ہر شام آتی ہیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- میں بھوکی نسل ہوںمیرے ملول و مضمحل چہرہ پہOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ان مکانوں میں بھی انسان ہی رہتے ہوں گےرونقیں جن میں نہیں آپ کی محفل کی سیOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- بہتی نہیں ہے مرد کی آنکھوں سے جوئے اشکلیکن ہمیں بتاؤ کہ ہم کس لئے ہنسیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ہم شاعر حیات ہیں ہم شاعر حیات!دوراںؔ وہ سرخ رنگ کا پرچم تو دو ہمیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- یہ زیست کہ ہے پھول سی مٹ جائے بلا سےگلچیں سے مگر بر سر پیکار ہی رہئےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)