Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گےدل کے سب ارمان آنکھوں سے نکلتے جائیں گےناطق لکھنوی
  2. ایک دنیا مست اک عالم خرابکس نے کی تقسیم آنکھوں سے شرابناطق لکھنوی
  3. اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرحمیں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرحناطق لکھنوی
  4. بے دلوں کی آبرو رہ جائے گیدل نہ ہوگا آرزو رہ جائے گیناطق لکھنوی
  5. پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہےآئنہ بھی ہے مرا دل تری تصویر بھی ہےناطق لکھنوی
  6. تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہےحیراں ہوں میں کہ طالب دیدار کون ہےناطق لکھنوی
  7. جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوانام اس کا محو عالم ایجاد سے ہواناطق لکھنوی
  8. دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکاتمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکاناطق لکھنوی
  9. صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھیہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھیناطق لکھنوی
  10. فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہےخزاں کی فکر خزاں میں نہ تھی بہار میں ہےناطق لکھنوی
  11. فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگازمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگاناطق لکھنوی
  12. قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سےآ کے خلوت میں بھی ملتا ہے بیاباں ہم سےناطق لکھنوی
  13. کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیاادھر وعدہ کیا اس نے ادھر دل کو یقیں آیاناطق لکھنوی
  14. کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہےمیں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہےناطق لکھنوی
  15. مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہوناکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہوناناطق لکھنوی
  16. میں جو یہ آشیاں بناتا ہوںبرق کو میہماں بناتا ہوںناطق لکھنوی
  17. نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہناطق لکھنوی
  18. وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئےاب جو ارماں رہ گئے سو رہ گئےناطق لکھنوی
  19. ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میںجس کی ضیا ہے سوز میں جس کی صدا ہے ساز میںناطق لکھنوی
  20. یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہےمثال برق و شرر ہے لیکن مزاج برق و شرر نہیں ہےناطق لکھنوی
  21. جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیںمگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیںناطق لکھنوی
  22. خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہےہم کو جی کھول کے رونے میں مزا ملتا ہےناطق لکھنوی
  23. دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھاکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھاناطق لکھنوی
  24. مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایاگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کرناطق لکھنوی