Poetry
- آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گےدل کے سب ارمان آنکھوں سے نکلتے جائیں گےناطق لکھنوی
- ایک دنیا مست اک عالم خرابکس نے کی تقسیم آنکھوں سے شرابناطق لکھنوی
- اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرحمیں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرحناطق لکھنوی
- بے دلوں کی آبرو رہ جائے گیدل نہ ہوگا آرزو رہ جائے گیناطق لکھنوی
- پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہےآئنہ بھی ہے مرا دل تری تصویر بھی ہےناطق لکھنوی
- تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہےحیراں ہوں میں کہ طالب دیدار کون ہےناطق لکھنوی
- جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوانام اس کا محو عالم ایجاد سے ہواناطق لکھنوی
- دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکاتمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکاناطق لکھنوی
- صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھیہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھیناطق لکھنوی
- فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہےخزاں کی فکر خزاں میں نہ تھی بہار میں ہےناطق لکھنوی
- فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگازمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگاناطق لکھنوی
- قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سےآ کے خلوت میں بھی ملتا ہے بیاباں ہم سےناطق لکھنوی
- کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیاادھر وعدہ کیا اس نے ادھر دل کو یقیں آیاناطق لکھنوی
- کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہےمیں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہےناطق لکھنوی
- مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہوناکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہوناناطق لکھنوی
- میں جو یہ آشیاں بناتا ہوںبرق کو میہماں بناتا ہوںناطق لکھنوی
- نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہناطق لکھنوی
- وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئےاب جو ارماں رہ گئے سو رہ گئےناطق لکھنوی
- ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میںجس کی ضیا ہے سوز میں جس کی صدا ہے ساز میںناطق لکھنوی
- یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہےمثال برق و شرر ہے لیکن مزاج برق و شرر نہیں ہےناطق لکھنوی
- جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیںمگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیںناطق لکھنوی
- خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہےہم کو جی کھول کے رونے میں مزا ملتا ہےناطق لکھنوی
- دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھاکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھاناطق لکھنوی
- مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایاگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کرناطق لکھنوی