Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہےقصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہےNadiya ambar lodhi
  2. پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہےمیٹھا پانی کھارا کیسے ہو سکتا ہےNadiya ambar lodhi
  3. درد اور غم کے مارے نکلے رات سفر صحرا اور میںایک ہی جنگ کے ہارے نکلے رات سفر صحرا اور میںNadiya ambar lodhi
  4. زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہےکہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہےNadiya ambar lodhi
  5. سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میںکسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میںNadiya ambar lodhi
  6. کپڑوں کی الماری -نہیںوہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں!Nadiya ambar lodhi
  7. کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہےدور تک خواہش اڑتی جاتی ہےNadiya ambar lodhi
  8. کیوں میں بار دگر جاؤںپھر سے اس کے در جاؤںNadiya ambar lodhi
  9. مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہےتو مری آنکھ کے تالاب سے کم واقف ہےNadiya ambar lodhi
  10. وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہےوہاں ہر خواب دفنایا گیا ہےNadiya ambar lodhi
  11. ہم کو آغاز سفر مارتا ہےمارتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہےNadiya ambar lodhi
  12. تم ٹھہرو ذرامیں آتی ہوںNadiya ambar lodhi
  13. خوش دامن کے دامن سےگر وابستہ ہو خوشیاںNadiya ambar lodhi
  14. میرے مالککیا ہم باندیاں ہیںNadiya ambar lodhi
  15. تم مری آواز دبا نہیں سکتےمرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتےNadiya ambar lodhi
  16. تم ہجرت کا کرب نہیں جانتےتم نے انتظار حسینؔ کے افسانے نہیں پڑھےNadiya ambar lodhi
  17. مذہب کا آکٹوپسپکڑ لیتا ہے فرد کوNadiya ambar lodhi
  18. بس چند ہم خیال ہیں عنبرؔ مجھے عزیزبے حس جم غفیر نہیں چاہیے مجھےNadiya ambar lodhi
  19. پا بہ جولاں تو ہر اک شخص یہاں ہے عنبرؔتری زنجیر ہی کیوں شور بپا کرتی ہےNadiya ambar lodhi
  20. زندہ رہتے ہیں کیا یہ کافی نہیںکوئی لازم ہے کہ پھر خوش بھی ہوںNadiya ambar lodhi
  21. عنبرؔ اس کے بیتے کل کا قصہ ہوں میںپھر کاہے کا شوق کہ اس کو یاد بھی ہوں میںNadiya ambar lodhi