Poetry
- آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہےقصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہےNadiya ambar lodhi
- پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہےمیٹھا پانی کھارا کیسے ہو سکتا ہےNadiya ambar lodhi
- درد اور غم کے مارے نکلے رات سفر صحرا اور میںایک ہی جنگ کے ہارے نکلے رات سفر صحرا اور میںNadiya ambar lodhi
- زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہےکہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہےNadiya ambar lodhi
- سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میںکسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میںNadiya ambar lodhi
- کپڑوں کی الماری -نہیںوہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں!Nadiya ambar lodhi
- کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہےدور تک خواہش اڑتی جاتی ہےNadiya ambar lodhi
- کیوں میں بار دگر جاؤںپھر سے اس کے در جاؤںNadiya ambar lodhi
- مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہےتو مری آنکھ کے تالاب سے کم واقف ہےNadiya ambar lodhi
- وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہےوہاں ہر خواب دفنایا گیا ہےNadiya ambar lodhi
- ہم کو آغاز سفر مارتا ہےمارتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہےNadiya ambar lodhi
- تم ٹھہرو ذرامیں آتی ہوںNadiya ambar lodhi
- خوش دامن کے دامن سےگر وابستہ ہو خوشیاںNadiya ambar lodhi
- میرے مالککیا ہم باندیاں ہیںNadiya ambar lodhi
- تم مری آواز دبا نہیں سکتےمرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتےNadiya ambar lodhi
- تم ہجرت کا کرب نہیں جانتےتم نے انتظار حسینؔ کے افسانے نہیں پڑھےNadiya ambar lodhi
- مذہب کا آکٹوپسپکڑ لیتا ہے فرد کوNadiya ambar lodhi
- بس چند ہم خیال ہیں عنبرؔ مجھے عزیزبے حس جم غفیر نہیں چاہیے مجھےNadiya ambar lodhi
- پا بہ جولاں تو ہر اک شخص یہاں ہے عنبرؔتری زنجیر ہی کیوں شور بپا کرتی ہےNadiya ambar lodhi
- زندہ رہتے ہیں کیا یہ کافی نہیںکوئی لازم ہے کہ پھر خوش بھی ہوںNadiya ambar lodhi
- عنبرؔ اس کے بیتے کل کا قصہ ہوں میںپھر کاہے کا شوق کہ اس کو یاد بھی ہوں میںNadiya ambar lodhi