Poetry
- آپ کو مجھ سے خفا مجھ سے خفا دیکھتا ہوںپھوٹتی کیوں نہیں آنکھیں مری کیا دیکھتا ہوںNadeem Fazli (b. 1959)
- اب اپنی ذات کا عرفان ہونے والا ہےخدا سے رابطہ آسان ہونے والا ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- اپنی روداد یوں بیاں ہو جائےاک پتنگا جلے دھواں ہو جائےNadeem Fazli (b. 1959)
- اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتااک فاصلہ احساس جدائی نہیں دیتاNadeem Fazli (b. 1959)
- بصیرتوں کا نظر احترام کرتی ہےسماعتوں سے خموشی کلام کرتی ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- جنم جنم کی تکان ہوتی نہ بال و پر میںجو چند لمحے گزار لیتا تری نظر میںNadeem Fazli (b. 1959)
- دل کی راہیں روشن کرتے رہتے ہیںکس کے گھنگھرو چھن چھن کرتے رہتے ہیںNadeem Fazli (b. 1959)
- رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائےہم پہ بھی چاند ستاروں کی ڈگر کھل جائےNadeem Fazli (b. 1959)
- راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھنساز ہستی سے بھی نکلے کوئی پیکر کوئی دھنNadeem Fazli (b. 1959)
- سب کو یہ فکر ہاتھ سے اب ایک پل نہ جائےدنیا حدود وقت سے آگے نکل نہ جائےNadeem Fazli (b. 1959)
- عجیب جنگ و جدال ہر پل ہے میرے اندرکہ نور و ظلمت کا ایک مقتل ہے میرے اندرNadeem Fazli (b. 1959)
- کسی بھی روشن خیال سے آشنا نہیں ہےجو آپ اپنے جمال سے آشنا نہیں ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوںذرا سا مسکرانا چاہتا ہوںNadeem Fazli (b. 1959)
- کی تو نے لب کشائی تو کس کے حضور کیاب کرچیاں سمیٹ دل ناصبور کیNadeem Fazli (b. 1959)
- مشکلیں خال خال چاہتے ہیںشوق میں اعتدال چاہتے ہیںNadeem Fazli (b. 1959)
- معرکہ ہی معرکہ چاروں طرفاک ہجوم کربلا چاروں طرفNadeem Fazli (b. 1959)
- وہ یک بہ یک اسے دل میں اتارنے کا عملوہ اپنی ذات پہ شب خون مارنے کا عملNadeem Fazli (b. 1959)
- ہر ایک بات کسی بات پر ہے گویا طنزمری زبان مری ذات پر ہے گویا طنزNadeem Fazli (b. 1959)
- ہمیں پہ تنگ یہ وقت رواں ہوا تو کیادراز اور بھی کار جہاں ہوا تو کیاNadeem Fazli (b. 1959)
- یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھےہر شام سے ملی ہے نوید سحر مجھےNadeem Fazli (b. 1959)