Poetry
- آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیاآنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھوMomin Khan Momin (1800–1852)
- اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیاناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کوزندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کوMomin Khan Momin (1800–1852)
- اگر غفلت سے باز آیا جفا کیتلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کیMomin Khan Momin (1800–1852)
- الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھبے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھMomin Khan Momin (1800–1852)
- امتحاں کے لیے جفا کب تکالتفات ستم نما کب تکMomin Khan Momin (1800–1852)
- اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنامشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامناMomin Khan Momin (1800–1852)
- تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میںبیچارگی سے جان پڑی کس عذاب میںMomin Khan Momin (1800–1852)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میںہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میںMomin Khan Momin (1800–1852)
- تم بھی رہنے لگے خفا صاحبکہیں سایہ مرا پڑا صاحبMomin Khan Momin (1800–1852)
- تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شبوہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شبMomin Khan Momin (1800–1852)
- ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہمپر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہمMomin Khan Momin (1800–1852)
- جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میںشوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میںMomin Khan Momin (1800–1852)
- جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہتو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہMomin Khan Momin (1800–1852)
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانااے باد صبا میری کروٹ تو بدل جاناMomin Khan Momin (1800–1852)
- چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہاے شب ہجر تیرا کالا منہMomin Khan Momin (1800–1852)
- دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گےفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گےMomin Khan Momin (1800–1852)
- دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھپالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھMomin Khan Momin (1800–1852)
- دل قابل محبت جاناں نہیں رہاوہ ولولہ وہ جوش وہ طغیاں نہیں رہاMomin Khan Momin (1800–1852)
- دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کیہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کیMomin Khan Momin (1800–1852)
- دیدۂ حیراں نے تماشا کیادیر تلک وہ مجھے دیکھا کیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- دیکھ لو شوق نا تمام مراغیر لے جائے ہے پیام مراMomin Khan Momin (1800–1852)
- ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاپر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچاکیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچاMomin Khan Momin (1800–1852)
- رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرحاٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرحMomin Khan Momin (1800–1852)
- سودا تھا بلائے جوش پر راتبستر پر بچھائے نشتر راتMomin Khan Momin (1800–1852)
- شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئےکھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئےMomin Khan Momin (1800–1852)
- شوخ کہتا ہے بے حیا جانادیکھو دشمن نے تم کو کیا جاناMomin Khan Momin (1800–1852)
- صبر وحشت اثر نہ ہو جائےکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائےMomin Khan Momin (1800–1852)
- عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتاجو ہم نہ ہوتے تو دل نہ ہوتا جو دل نہ ہوتا تو غم نہ ہوتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- غصہ بیگانہ وار ہونا تھابس یہی تجھ سے یار ہونا تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
- غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنامیری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھناMomin Khan Momin (1800–1852)
- قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشقMomin Khan Momin (1800–1852)
- کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیےدس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیےMomin Khan Momin (1800–1852)
- گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتادم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سافلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا ساMomin Khan Momin (1800–1852)
- محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیارحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑدوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑMomin Khan Momin (1800–1852)
- میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائےپر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائےMomin Khan Momin (1800–1852)
- نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگینہ ہائے ہائے میں تالو سے شب زبان لگیMomin Khan Momin (1800–1852)
- وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیاتم سے دشمن کی مبارک باد کیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہماراجو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہماراMomin Khan Momin (1800–1852)
- وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوMomin Khan Momin (1800–1852)
- وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھےخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھےMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کاطوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کاMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہم سمجھتے ہیں آزمانے کوعذر کچھ چاہیئے ستانے کوMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آجناز کرتی ہے بے قراری آجMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہوئی تاثیر آہ و زاری کیرہ گئی بات بے قراری کیMomin Khan Momin (1800–1852)