میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

Momin Khan Momin (1800–1852)

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

باندھو اب چارہ گرو چلے کہ وہ بھی شاید

وصل دشمن کے لیے سوئے مزار آ جائے

کر ذرا اور بھی اے جوش جنوں جنوں خوار و ذلیل

مجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے

نام بدبختی عشاق خزاں ہے بلبل

تو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے

جیتے جی غیر کو ہو آتش دوزخ کا عذاب

گر مری نعش پہ وہ شعلہ عذار آ جائے

کلفت ہجر کو کیا روؤں ترے سامنے میں

دل جو خالی ہو تو آنکھوں میں غبار آ جائے

محو دل دار ہوں کس طرح نہ ہوں دشمن جاں

مجھ پہ جب ناصح بیدرد کو پیار آ جائے

ٹھہر جا جوش تپش ہے تو تڑپنا لیکن

چارہ سازوں میں ذرا دم دل زار آ جائے

حسن انجام کا مومنؔ مرے بارے ہے خیال

یعنی کہتا ہے وہ کافر کہ تو مارا جائے