محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا

Momin Khan Momin (1800–1852)

محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا

رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا

الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی

شیریں کو درد تلخی فرہاد آ گیا

ہم چارہ گر کو یوں ہی پنہائیں گے بیڑیاں

قابو میں اپنے گر وہ پری زاد آ گیا

دل کو قلق ہے ترک محبت کے بعد بھی

اب آسماں کو شکوۂ بیداد آ گیا

وہ بدگماں ہوا جو کہیں شعر میں مرے

ذکر بتان خلخ و نوشاد آ گیا

تھے بے گناہ جرأت پا بوس تھی ضرور

کیا کرتے وہم خجلت جلاد آ گیا

جو ہو چکا یقیں کہ نہیں طاقت وصال

دم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آ گیا

ذکر شراب و حور کلام خدا میں دیکھ

مومنؔ میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آ گیا