Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیالیکن وہ اپنے ساتھ مرا زہر لے گیاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  2. ختم چھٹی مدرسے کا در کھلاعقل و دانش علم و فن کا گھر کھلاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  3. خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  4. روز مرغا بنا کرے کوئیکب تک آخر پٹا کرے کوئیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  5. سرد جذبے بجھے بجھے چہرےجسم زندہ ہیں مر گئے چہرےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  6. سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیالیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  7. سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میںسائے راکھ بنے جاتے ہیں جیتے ہوئے درختوں میںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  8. قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنےبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  9. کیا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈوبی ہےرنگ بدلتی دنیا میں جو یک رنگی ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  10. مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  11. مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتاکبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  12. نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  13. ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئےآنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  14. ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  15. یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندےلرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  16. آغوش والدہ میں پالا تھا ہم کو جس نےاک پیکر ادب میں ڈھالا تھا ہم کو جس نےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  17. ابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں اک دن وقار مادر ہندوستاں ہوں گےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  18. اگر تیرے معدے میں ہے کچھ گرانیتو لیمو کا رس پی لے ادرک کا پانیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  19. او پاس ہونے والے ہم کو بھی ساتھ لے لےہم رہ گئے اکیلےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  20. جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہےہم مل کر شور مچاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  21. چاند پہلے بھی خوب صورت تھاآج بھی چاند خوب صورت ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  22. ساری دنیا میں لا جواب بنوانتخابوں کا انتخاب بنوKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  23. سارے وطن کے راج دلارےصدر حکومت ذاکر پیارےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  24. سب زبانوں کی جان ہے اردوکتنی پیاری زبان ہے اردوKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  25. کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استادہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استادKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  26. کسی دن چاند پر ہم لوگ بھی راکٹ سے جائیں گےیہ مانا چاند ابھی اک ریت کا میدان ہے لیکنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  27. لو گھنٹہ بجا انٹرول کااب وقت آیا ہے ہلچل کاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  28. مادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔاپنے فن میں بڑے ہشیار تھے مرزا غالبؔKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  29. مری گڑیا کسی دن چاند پر شادی رچائے گیزمیں کے تو سبھی گڈے نظر آتے ہیں اب بڈھےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  30. نتیجہ سن کے کئی لوگ بد حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  31. وائے تقدیر میں گدھا نہ ہواہم نوا کرشن چندر کا نہ ہواKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  32. وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جیہر ایک فرد کے ہمدرد غم گسار وطنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  33. ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  34. سوچتا ہوںوقت کی گردن پکڑ کرKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  35. آج پھر شاخ سے گرے پتےاور مٹی میں مل گئے پتےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  36. تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہرراتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  37. کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئیجیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  38. وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہواجس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)