Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اے مصور جو مری تصویر کھینچحسرت آگیں غمزدہ دلگیر کھینچJalal Lakhnavi (1832–1909)
  2. بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابرشرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابرJalal Lakhnavi (1832–1909)
  3. پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپسر راہ طلب ملیں گے آپJalal Lakhnavi (1832–1909)
  4. تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایاتجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  5. جانے والا اضطراب دل نہیںیہ تڑپ تسکین کے قابل نہیںJalal Lakhnavi (1832–1909)
  6. جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتیوہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  7. دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کرپڑ رہے کوئی مسلمان بھی کافر ہو کرJalal Lakhnavi (1832–1909)
  8. شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوںہجوم آرزو ہے اور میں ہوںJalal Lakhnavi (1832–1909)
  9. صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیںہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیںJalal Lakhnavi (1832–1909)
  10. صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوسقاتل یہی تھی تیرے گنہ گار کی ہوسJalal Lakhnavi (1832–1909)
  11. کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتیوہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  12. گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھاجواب جادۂ صحرائے وحشت ناک ہونا تھاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  13. مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کرتو یہ بھی مے پہ گرتی ہے کیا ٹوٹ ٹوٹ کرJalal Lakhnavi (1832–1909)
  14. مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئیہو چکا حشر بھی لیکن یہ قیامت نہ گئیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  15. مری شاکی ہے خود میری فغاں تککہ تالو سے نہیں لگتی زباں تکJalal Lakhnavi (1832–1909)
  16. نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میںتو آ نکلے تڑپ کر ہم تمہارے بے قراروں میںJalal Lakhnavi (1832–1909)
  17. وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملاملا وہ غم کدہ جس میں چراغ بھی نہ ملاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  18. یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کودل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کوJalal Lakhnavi (1832–1909)
  19. اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دےپھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دےJalal Lakhnavi (1832–1909)
  20. پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوںقاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  21. جس نے کچھ احساں کیا اک بوجھ سر پر رکھ دیاسر سے تنکا کیا اتارا سر پہ چھپر رکھ دیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  22. جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بارابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابلJalal Lakhnavi (1832–1909)
  23. عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہیدرد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  24. میں جو آیا غیر سے ہنس کر کہا اس نے جلالؔختم ہے جس پر شرافت وہ کمینہ آ گیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  25. میں نے پوچھا کہ ہے کیا شغل تو ہنس کر بولےآج کل ہم تیرے مرنے کی دعا کرتے ہیںJalal Lakhnavi (1832–1909)
  26. نہ خوف آہ بتوں کو نہ ڈر ہے نالوں کابڑا کلیجہ ہے ان دل دکھانے والوں کاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  27. نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نےچلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہےJalal Lakhnavi (1832–1909)
  28. وعدہ کیوں بار بار کرتے ہوخود کو بے اعتبار کرتے ہوJalal Lakhnavi (1832–1909)