میں نے پوچھا کہ ہے کیا شغل تو ہنس کر بولے

Jalal Lakhnavi (1832–1909)

میں نے پوچھا کہ ہے کیا شغل تو ہنس کر بولے

آج کل ہم تیرے مرنے کی دعا کرتے ہیں