Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انداز کسی کا ہے صدا اور کسی کیہے چوٹ کوئی اور دوا اور کسی کیJafar Sahni (1941–2018)
  2. ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تکزندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تکJafar Sahni (1941–2018)
  3. بیٹھا تھا تن کو ڈھانک کے جو گرم شال سےمشکل میں پڑ گیا وہ ستاروں کی چال سےJafar Sahni (1941–2018)
  4. پر شور تلاطم کا مداوا کوئی آہٹسنگین فضا میں تھی دلاسا کوئی آہٹJafar Sahni (1941–2018)
  5. پیچھا ہی نہیں چھوڑتی گھر بار کی خوشبورستے سے عیاں ہے در و دیوار کی خوشبوJafar Sahni (1941–2018)
  6. تماشا اک انوکھا سا دکھاناتردد میں کھلا چہرہ دکھاناJafar Sahni (1941–2018)
  7. جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کیبہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کیJafar Sahni (1941–2018)
  8. چاندنی شب بھر ٹہلتی چھت پہ تنہا رہ گئیپیار کی ہر یاد رنگیں بے سہارا ہو گئیJafar Sahni (1941–2018)
  9. خاک میں لپٹی کہانی اور ہےرنگ لیکن آسمانی اور ہےJafar Sahni (1941–2018)
  10. خاموش نگاہوں سے وہ یلغار کا ہوناملتا ہے نفی میں کسی اقرار کا ہوناJafar Sahni (1941–2018)
  11. دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شایدآج بھی ہے وہ ہم سفر شایدJafar Sahni (1941–2018)
  12. دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرحارماں سجا تھا میرؔ کے دیوان کی طرحJafar Sahni (1941–2018)
  13. زرد پتا جو ڈال سے نکلاحسرتوں کے وبال سے نکلاJafar Sahni (1941–2018)
  14. زوال عمر کے پردے میں ہے حجاب کہاںوفور شوق سے لبریز اب گلاب کہاںJafar Sahni (1941–2018)
  15. شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہوآگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہوJafar Sahni (1941–2018)
  16. طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشنجگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشنJafar Sahni (1941–2018)
  17. کبھی نازک کبھی بے حد کڑا ہےوہ تغلقؔ سامنے بن کر کھڑا ہےJafar Sahni (1941–2018)
  18. لمحوں کے اشارے میں جفا دیکھ کے چپ ہےکس واسطے ہر غم کو خدا دیکھ کے چپ ہےJafar Sahni (1941–2018)
  19. محبتوں کی عنایتوں سے ہوا ہے دل یہ خراب باباخدا پرستی کا طور دیکھو بنا ہے کیسا عذاب باباJafar Sahni (1941–2018)
  20. ہر سمت اڑی گرد مرے شہر گماں میںمحصور تمنا ہے زمانے کے دھواں میںJafar Sahni (1941–2018)
  21. ہر طرف موج بلا کی سی روانی دیکھیاشک کی گود میں مجبور کہانی دیکھیJafar Sahni (1941–2018)
  22. بہت ہی تیز بارش ہےہوا بھی کچھ اس طوفانیJafar Sahni (1941–2018)
  23. شفق جب پھول کر رنگ حنا تھیاور ہوا کے لب سلے تھےJafar Sahni (1941–2018)
  24. نیم کے سائے میںایک کھردرے فٹ پاتھ پرJafar Sahni (1941–2018)
  25. واپسی پررات کے کالے سیہ جھولے میں لیٹےJafar Sahni (1941–2018)
  26. بہت نرم و نازکحسیں پنکھ والیJafar Sahni (1941–2018)
  27. آج پھر مجھ سےمرا کمرہ مخاطب ہےJafar Sahni (1941–2018)
  28. خواب کی سیڑھیاںلمحہ لمحہJafar Sahni (1941–2018)
  29. مجھ کو وہ کتاصبا قدموں اچھلتاJafar Sahni (1941–2018)
  30. مچا کہرام کیوں ہےگھر بدلنے پرJafar Sahni (1941–2018)
  31. مختصر کمرے کیایک چھوٹی سی مغموم کھڑکیJafar Sahni (1941–2018)
  32. میرے غم میں شریک ہونےاور مجھے دلاسہ دینے کوJafar Sahni (1941–2018)
  33. وہ تبسم کی سڑک پرتھامے جس کی انگلیاںJafar Sahni (1941–2018)
  34. عید کا دن تو ہے مگر جعفرؔمیں اکیلے تو ہنس نہیں سکتاJafar Sahni (1941–2018)