Poetry
- انداز کسی کا ہے صدا اور کسی کیہے چوٹ کوئی اور دوا اور کسی کیJafar Sahni (1941–2018)
- ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تکزندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تکJafar Sahni (1941–2018)
- بیٹھا تھا تن کو ڈھانک کے جو گرم شال سےمشکل میں پڑ گیا وہ ستاروں کی چال سےJafar Sahni (1941–2018)
- پر شور تلاطم کا مداوا کوئی آہٹسنگین فضا میں تھی دلاسا کوئی آہٹJafar Sahni (1941–2018)
- پیچھا ہی نہیں چھوڑتی گھر بار کی خوشبورستے سے عیاں ہے در و دیوار کی خوشبوJafar Sahni (1941–2018)
- تماشا اک انوکھا سا دکھاناتردد میں کھلا چہرہ دکھاناJafar Sahni (1941–2018)
- جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کیبہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کیJafar Sahni (1941–2018)
- چاندنی شب بھر ٹہلتی چھت پہ تنہا رہ گئیپیار کی ہر یاد رنگیں بے سہارا ہو گئیJafar Sahni (1941–2018)
- خاک میں لپٹی کہانی اور ہےرنگ لیکن آسمانی اور ہےJafar Sahni (1941–2018)
- خاموش نگاہوں سے وہ یلغار کا ہوناملتا ہے نفی میں کسی اقرار کا ہوناJafar Sahni (1941–2018)
- دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شایدآج بھی ہے وہ ہم سفر شایدJafar Sahni (1941–2018)
- دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرحارماں سجا تھا میرؔ کے دیوان کی طرحJafar Sahni (1941–2018)
- زرد پتا جو ڈال سے نکلاحسرتوں کے وبال سے نکلاJafar Sahni (1941–2018)
- زوال عمر کے پردے میں ہے حجاب کہاںوفور شوق سے لبریز اب گلاب کہاںJafar Sahni (1941–2018)
- شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہوآگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہوJafar Sahni (1941–2018)
- طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشنجگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشنJafar Sahni (1941–2018)
- کبھی نازک کبھی بے حد کڑا ہےوہ تغلقؔ سامنے بن کر کھڑا ہےJafar Sahni (1941–2018)
- لمحوں کے اشارے میں جفا دیکھ کے چپ ہےکس واسطے ہر غم کو خدا دیکھ کے چپ ہےJafar Sahni (1941–2018)
- محبتوں کی عنایتوں سے ہوا ہے دل یہ خراب باباخدا پرستی کا طور دیکھو بنا ہے کیسا عذاب باباJafar Sahni (1941–2018)
- ہر سمت اڑی گرد مرے شہر گماں میںمحصور تمنا ہے زمانے کے دھواں میںJafar Sahni (1941–2018)
- ہر طرف موج بلا کی سی روانی دیکھیاشک کی گود میں مجبور کہانی دیکھیJafar Sahni (1941–2018)
- بہت ہی تیز بارش ہےہوا بھی کچھ اس طوفانیJafar Sahni (1941–2018)
- شفق جب پھول کر رنگ حنا تھیاور ہوا کے لب سلے تھےJafar Sahni (1941–2018)
- نیم کے سائے میںایک کھردرے فٹ پاتھ پرJafar Sahni (1941–2018)
- واپسی پررات کے کالے سیہ جھولے میں لیٹےJafar Sahni (1941–2018)
- بہت نرم و نازکحسیں پنکھ والیJafar Sahni (1941–2018)
- آج پھر مجھ سےمرا کمرہ مخاطب ہےJafar Sahni (1941–2018)
- خواب کی سیڑھیاںلمحہ لمحہJafar Sahni (1941–2018)
- مجھ کو وہ کتاصبا قدموں اچھلتاJafar Sahni (1941–2018)
- مچا کہرام کیوں ہےگھر بدلنے پرJafar Sahni (1941–2018)
- مختصر کمرے کیایک چھوٹی سی مغموم کھڑکیJafar Sahni (1941–2018)
- میرے غم میں شریک ہونےاور مجھے دلاسہ دینے کوJafar Sahni (1941–2018)
- وہ تبسم کی سڑک پرتھامے جس کی انگلیاںJafar Sahni (1941–2018)
- عید کا دن تو ہے مگر جعفرؔمیں اکیلے تو ہنس نہیں سکتاJafar Sahni (1941–2018)