Poetry
- آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہواکوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
- آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سببدل بیچ کر ہوا میں گنہ گار بے سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
- آشنا کوئی باوفا نہ ملاکشتئ دل کا ناخدا نہ ملاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خرابکس کس مکان کو نہ کرے گا دھواں خرابImdad Ali Bahr (1810–1878)
- اب مرنا ہے اپنے خوشی ہے جینے سے بے زاری ہےعشق میں ایسے ہلکے ہوئے ہیں جان بدن کو بھاری ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- اس طرح زیست بسر کی کوئی پرساں نہ ہوایوں میں دنیا سے اٹھا داغ عزیزاں نہ ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
- افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سےچھاپے گئے اخبار مری بے خبری سےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکامال نیک ہو جس کا وہ کام ہو نہ سکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ایسی کوئل نہ پپیہے کی ہے پیاری آوازکیا بھلی لگتی ہے کانوں کو تمہاری آوازImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ایسے پر نور و ضیا یار کے رخسارے ہیںجن کے آگے مہ و خورشید بھی دو تارے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکااس کا تو امتحان کئی بار ہو چکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- بتو خدا پہ نہ رکھو معاملہ دل کابرا بھلا یہیں ہو جائے فیصلہ دل کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- بغیر یار گوارا نہیں کباب شرابگزک ہے داغ مجھے اور خون ناب شرابImdad Ali Bahr (1810–1878)
- بولئے کرتا ہوں منت آپ کیکیوں مکدر ہے طبیعت آپ کیImdad Ali Bahr (1810–1878)
- پھل آتے ہیں پھول ٹوٹتے ہیںخردوں سے بزرگ چھوٹتے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- تارے گنتے رات کٹتی ہی نہیں آتی ہے نینددل کو تڑپاتا ہے ہجر آنکھوں کو ترساتی ہے نیندImdad Ali Bahr (1810–1878)
- تیری ہر اک بات ہے نشتر نہ چھیڑپکا پھوڑا ہوں میں اے دل بر نہ چھیڑImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہےہم دیر سے چلے صنم اب رام رام ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جب دست بستہ کی نہیں عقدہ کشا نمازکاٹے گی میری پاؤں کی زنجیر کیا نمازImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جب کہ سر پر وبال آتا ہےپیچ میں بال بال آتا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جڑاؤ چوڑیوں کے ہاتھوں میں پھبن کیا خوببھرے بھرے ترے بازو پہ نورتن کیا خوبImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جس کو چاہو تم اس کو بھر دوماہ کو نقرہ مہر کو زر دوImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جلوۂ ارباب دنیا دیکھیےسوانگ ہے یہ بھی تماشا دیکھیےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آاے بت مست مے حسن ذرا ہوش میں آImdad Ali Bahr (1810–1878)
- چننے نہ دیا ایک مجھے لاکھ جھڑے پھولاللہ کرے خانۂ گلچیں میں پڑے پھولImdad Ali Bahr (1810–1878)
- چور صدموں سے ہو بعید نہیںآبگینہ ہے دل حدید نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئےکسی طرف نہ جھکا سر کچھ ایسے مست ہوئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- خوب رو سب ہیں مگر حورا شمائل ایک ہےاور مہ پارہ ہیں لیکن ماہ کامل ایک ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- خوب رویان جہاں چاند کی تنویریں ہیںپتلیاں آنکھوں کی روشن ہوں وہ تصویریں ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- خورشید فراق میں تپاں ہےاے ذرہ نواز تو کہاں ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- داغ بیعانہ حسن کا نہ ہواکھوٹے داموں معاملہ نہ ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
- دل سے سمجھوں گا اسے دشمن جاں ہونے دوزہر گھولوں گا دوا میں خفقاں ہونے دوImdad Ali Bahr (1810–1878)
- دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتامرے منہ میں پانی چوایا تو ہوتاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- دوستو دل کہیں زنہار نہ آنے پائےدل کے ہاتھوں کوئی آزار نہ آنے پائےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- روشن ہزار چند ہیں شمس و قمر سے آپغائب ہیں پر نگاہ کی صورت نظر سے آپImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ساقی ترے بغیر ہے محفل سے دل اچاٹسو جیسے جی اداس ہے سو دل سے دل اچاٹImdad Ali Bahr (1810–1878)
- سب حسینوں میں وہ پیارا خوب ہےایک چہرہ جسم سارا خوب ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- سرو میں رنگ ہے کچھ کچھ تری زیبائی کاجامۂ گل میں ہے چھاپہ تری رعنائی کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- سیر اس سبزۂ عارض کی ہے دشوار بہتاے دل آبلہ پا راہ میں ہیں خار بہتImdad Ali Bahr (1810–1878)
- سینہ کوبی کر چکے غم کر چکےجیتے جی ہم اپنا ماتم کر چکےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- شور ہے اس سبزۂ رخسار کاآج طوطی بولتا ہے یار کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہےنہیں روکے سے دل رکتا طبیعت آ ہی جاتی ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- فرقت کی آفت برے دن کاٹنا سال ہےیہ ہاتھ ہے سو کرے یہ سینہ گھڑیال ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپجلے بھوؤں پہ کرے اپنی مہربانی دھوپImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کبھی دیکھیں جو روئے یار درختاپنے پھولوں کو سمجھیں خار درختImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کس سے ہوں داد خواہ کوئی دادرس نہیںوہ کشتنی ہوں میں کہ کسی کو ترس نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کیا سلام جو ساقی سے ہم نے جام لیاپڑھے درود جو پیر مغاں کا نام لیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- گردش چرخ سے قیام نہیںصبح گھر میں ہوں میں تو شام نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- گیا سب اندوہ اپنے دل کا تھمے اب آنسو قرار آیانصیب جاگے ستارہ چمکا پھرے دن اپنے وہ یار آیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایاقد سرو کیا رخ گل مہتاب بنایاImdad Ali Bahr (1810–1878)