Poetry
- آئینہ تمہارے نقش پا کاخورشید کو دے سبق جلا کاحسن بریلوی
- تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہےاور یہ خانماں خراب بھی ہےحسن بریلوی
- جب مرا مہر جلوہ گر ہوگادوپہر ہوگا جو پہر ہوگاحسن بریلوی
- جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئےخوبان خود فروش خریدار ہو گئےحسن بریلوی
- چھپ گیا یار خود نما ہو کررہ گئی چشم شوق وا ہو کرحسن بریلوی
- حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہوسچ تو یہ ہے آپ سا بھی بے خبر کوئی نہ ہوحسن بریلوی
- حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلاعشق اپنے مجرموں کو پا بہ جولاں لے چلاحسن بریلوی
- حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلاعشق اپنے مجرموں کو پا بجولاں لے چلاحسن بریلوی
- دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتابسر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتابحسن بریلوی
- راز دل لاتے ہیں زباں تک ہمدکھ بھریں اے خدا کہاں تک ہمحسن بریلوی
- کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہےکچھ یہ بے چپن طبیعت بھی بری ہوتی ہےحسن بریلوی
- کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سناسنتا ہوں آج تو نے مرا ماجرا سناحسن بریلوی
- کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتاتو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتاحسن بریلوی
- مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہےتمہاری دل لگی کو محفل اغیار کیسی ہےحسن بریلوی
- مل گیا دل نکل گیا مطلبآپ کو اب کسی سے کیا مطلبحسن بریلوی
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیںلیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیںحسن بریلوی
- وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہےمیں ان کو یاد کرتا ہوں محبت ہی کچھ ایسی ہےحسن بریلوی
- وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیبدل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیبحسن بریلوی
- ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیںمردے جیتے ہیں زندے مرتے ہیںحسن بریلوی
- ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتادیکھ دیکھا نہیں دیکھا جاتاحسن بریلوی
- چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھاآنکھیں جب پھوٹ گئیں تب یہ تماشا دیکھاحسن بریلوی
- کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لوحال عاشق کا بلا کر دیکھ لوحسن بریلوی