Poetry
- پتھر سے وصال مانگتی ہوںمیں آدمیوں سے کٹ گئی ہوںFahmida Riaz (1946–2018)
- جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہےیا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاںFahmida Riaz (1946–2018)
- کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میںوہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میںFahmida Riaz (1946–2018)
- مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیںماضی بھی کبھی دل میں نہ چبھا آئندہ کا سوچا بھی نہیںFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکاتو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھاFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایاجو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایاFahmida Riaz (1946–2018)
- اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوFahmida Riaz (1946–2018)
- اس کو اک دن تو جانا تھامجھ سے کیا رشتہ کیا ناتاFahmida Riaz (1946–2018)
- اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سااک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہواFahmida Riaz (1946–2018)
- اک دن جو بہم ہوں گےتجھ سے ترے درماندہFahmida Riaz (1946–2018)
- انسانوں کے دل میں بچوںاک پیار کا دریا بہتا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کیکبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتیFahmida Riaz (1946–2018)
- اے دل کافر عجز سے منکر آج ترا سر خم کیوں ہےتیری ہٹیلی شریانوں میں یہ بے بس ماتم کیوں ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- اے دوست پرانے پہچانےہم کتنی مدت بعد ملےFahmida Riaz (1946–2018)
- بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- پتھریلے کہسار کے گاتے چشموں میںگونج رہی ہے ایک عورت کی نرم ہنسیFahmida Riaz (1946–2018)
- تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیFahmida Riaz (1946–2018)
- جن پر میرا دل دھڑکا تھاوہ سب باتیں دہراتے ہوFahmida Riaz (1946–2018)
- دل میں کب سے رم جھم کرتیکیسی برکھا برس رہی ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- دلی! تری چھاؤں بڑی قہریمری پوری کایا پگھل رہیFahmida Riaz (1946–2018)
- دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیںFahmida Riaz (1946–2018)
- رات اک رنگ ہے اک راگ ہے اک خوشبو ہےمہرباں رات مرے پاس چلی آئے گیFahmida Riaz (1946–2018)
- سنسناہٹوں کے ساتھگڑگڑاہٹوں کے ساتھFahmida Riaz (1946–2018)
- سنگ دل رواجوں کییہ عمارت کہنہFahmida Riaz (1946–2018)
- قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیںاک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- کتنے بخت والے ہوزندگی میں جو چاہاFahmida Riaz (1946–2018)
- کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گےFahmida Riaz (1946–2018)
- کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہےسر میں بھی ہے جستجو کا جوہرFahmida Riaz (1946–2018)
- مشرقی یوپی کرفیو میںیہ دھرتی کتنی سندر ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- میں عازم مے خانہ تھی کل رات کہ دیکھااک کوچۂ پر شور میں اصحاب طریقتFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاںاک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاںFahmida Riaz (1946–2018)
- آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفیدریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانندFahmida Riaz (1946–2018)
- تم نے دیکھی ہے کبھی ایک زن خانہ بدوشجس کے خیمے سے پرے رات کی تاریکی میںFahmida Riaz (1946–2018)
- عشق آوارہ مزاجوہ مسافر تو گیاFahmida Riaz (1946–2018)
- لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذراچھو کے میرا بدنFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ جو تنہائی ہے شاید مری تنہائی نہ ہوگونجنا ہو نہ سماعت میں سکوتFahmida Riaz (1946–2018)
- یہیں تو کہیں پرتمہارے لبوں نےFahmida Riaz (1946–2018)
- آ مرے اندر آپوتر مہران کے پانیFahmida Riaz (1946–2018)
- اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نےمیرے اشک پونچھ کرFahmida Riaz (1946–2018)
- اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھایہی بلندی ہے وصل تیراFahmida Riaz (1946–2018)
- اقلیماجو ہابیل کی قابیل کی ماں جائی ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- بڑی سہانی سی رات تھی وہہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھیFahmida Riaz (1946–2018)
- حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گییہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایتFahmida Riaz (1946–2018)
- خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دیبہشت سے جب اسے نکالاFahmida Riaz (1946–2018)
- رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سالاک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بالFahmida Riaz (1946–2018)
- زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبوFahmida Riaz (1946–2018)
- کب تک مجھ سے پیار کرو گےکب تک؟Fahmida Riaz (1946–2018)
- یہ زرد موسم کے خشک پتےہوا جنہیں لے گئی اڑا کرFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرایہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھلFahmida Riaz (1946–2018)