Poetry
- ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہےیہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہےEjaz Obaid
- اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میںمیں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میںEjaz Obaid
- ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھیوہ مگر کچھ اور ہنستی شام تھیEjaz Obaid
- تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیںکیا تھی وہ راہ گزر یاد نہیںEjaz Obaid
- تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنیاب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنیEjaz Obaid
- تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھیساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھیEjaz Obaid
- دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھےترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھےEjaz Obaid
- دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئیاب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئیEjaz Obaid
- دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دنہو جائیں گے ہم سب بے چہرا اک دنEjaz Obaid
- غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیںاور چارہ نہیں کہ تم سے کہیںEjaz Obaid
- کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کروتم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کروEjaz Obaid
- کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہےہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہےEjaz Obaid
- نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھےپھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھےEjaz Obaid
- ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنامرے نصیب میں میرا زوال تھا کتناEjaz Obaid
- ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئےلیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئےEjaz Obaid
- ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھیتیری شوخی غم فرقت کبھی ایسی تو نہ تھیEjaz Obaid
- سحر ہوتے ہی کوئی ہو گیا رخصت گلے مل کرفسانے رات کے کہتی رہی ٹوٹی ہوئی چوڑیEjaz Obaid
- مقید ہو نہ جانا ذات کے گنبد میں یاروکسی روزن کسی دروازہ کو وا چھوڑ دیناEjaz Obaid