Poetry
- اس کے حریم ناز میں تیرا گزر کہاںاے دل یہ سچ بتا کہ رہا رات بھر کہاںEjaz Ajmeri
- بہ فیض عشق وہ دن بھی کبھی پروردگار آئےمرے گھر کوئی آ جائے مرے گھر میں بہار آئےEjaz Ajmeri
- بے خبر کیسے کوئی راز نہاں تک پہنچےبات دل سے کہیں نکلے تو زباں تک پہنچےEjaz Ajmeri
- پیو پلاؤ علی الرغم دور جام چلےیہ میکدہ ہے یہاں کس کی روک تھام چلےEjaz Ajmeri
- خود کو آفات زمانہ سے بچائے رکھئےوقت کیسا بھی ہو کردار بنائے رکھئےEjaz Ajmeri
- سب ان کا حال دیکھ رہے ہیں نظر سے ہمبیٹھے ہیں اس طرح سے کہ ہیں بے خبر سے ہمEjaz Ajmeri
- ظلم کیوں ناروا کرے کوئیکچھ تو خوف خدا کرے کوئیEjaz Ajmeri
- کسی سے کر کے شاید آج وہ تکرار بیٹھے ہیںجو منہ پھیرے ہوئے وہ جانب دیوار بیٹھے ہیںEjaz Ajmeri
- کھلتی نہیں ہے اس لئے میری زبان غمگھبرا نہ جائے سن کے کہیں داستان غمEjaz Ajmeri
- مری دیوانگی کو اپنی زلفوں میں چھپا بیٹھےتماشا دیکھنے والے تماشا کیوں دکھا بیٹھےEjaz Ajmeri
- مزہ تو جب ہے غم عشق آشکار نہ ہوجگر پہ چوٹ لگے اور بے قرار نہ ہوEjaz Ajmeri
- منصور وار محو تماشا نہیں ہوں میںسب کچھ سہی خراب تمنا نہیں ہوں میںEjaz Ajmeri
- میں رہا شیر و شکر تلخیٔ ایام کے ساتھزندگی میں نے گزاری بڑے آرام کے ساتھEjaz Ajmeri