کسی سے کر کے شاید آج وہ تکرار بیٹھے ہیں
Ejaz Ajmeriکسی سے کر کے شاید آج وہ تکرار بیٹھے ہیں
جو منہ پھیرے ہوئے وہ جانب دیوار بیٹھے ہیں
ادھر وہ ہیں کہ جو تولے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں
ادھر ہم ہیں کہ اپنی زیست سے بیزار بیٹھے ہیں
ارے وائے زمانہ تفرقہ انداز ہے کیا کیا
ادھر دو چار بیٹھے ہیں ادھر دو چار بیٹھے ہیں
بگڑتا ہے بگڑ جائے سدھرتا ہے سدھر جائے
تری چوکھٹ پہ دیوانے مقدر ہار بیٹھے ہیں
زباں سے کچھ نہیں کہتے مگر سب کچھ سمجھتے ہیں
انہیں دیوانہ مت سمجھو یہ سب ہشیار بیٹھے ہیں
خدا کا شکر ہے اعجازؔ پوری ہو گئی منزل
ہزاروں بار اٹھے ہیں ہزاروں بار بیٹھے ہیں