مری دیوانگی کو اپنی زلفوں میں چھپا بیٹھے
Ejaz Ajmeriمری دیوانگی کو اپنی زلفوں میں چھپا بیٹھے
تماشا دیکھنے والے تماشا کیوں دکھا بیٹھے
بجز ان چار اشکوں کے ہمارے پاس تھا ہی کیا
اسی دولت کے مالک تھے اسی کو ہم لٹا بیٹھے
مری جانب سے پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے غصے میں
تمہارے ہاتھ کیا آیا لگی میں کیوں لگا بیٹھے
اب اس کا جیسا جی چاہے بھلا مانے برا مانے
ہوئے مجبور اس دل سے تو ہم بھی در پہ آ بیٹھے
کوئی واقف نہ تھا اعجازؔ اس دل کے تعلق سے
حقیقت کھل گئی آخر جو وہ پردے میں جا بیٹھے
عجب عالم تھا اے اعجازؔ رندوں کی مسرت کا
مرے ہاتھوں میں جام آیا تو مے خانہ لٹا بیٹھے