میں رہا شیر و شکر تلخیٔ ایام کے ساتھ

Ejaz Ajmeri

میں رہا شیر و شکر تلخیٔ ایام کے ساتھ

زندگی میں نے گزاری بڑے آرام کے ساتھ

تمکنت بھی ہے کچھ اس میں تو یہ خوددار بھی ہے

چل سکے گا نہ مرا دل روش عام کے ساتھ

اب نہ شکوے کی جگہ ہے نہ شکایت کا مقام

بن گئے خود وہ تماشا مرے انجام کے ساتھ

آج کی شام سنا ہے وہ ادھر آئیں گے

اب قیامت نہ چلی آئے کہیں شام کے ساتھ

غیر پیتے ہیں شب و روز ترے ہاتھوں سے

یہ خلش اور بھی ہے تشنگیٔ جام کے ساتھ

جاگ اٹھتی ہے کبھی اور کبھی سو جاتی ہے

زندگی کھیل رہی ہے سحر و شام کے ساتھ

یہ بھی شاید ترا اعجازؔ ستم رانی ہے

دل کو واپس بھی کیا تو نے تو انعام کے ساتھ