ظلم کیوں ناروا کرے کوئی

Ejaz Ajmeri

ظلم کیوں ناروا کرے کوئی

کچھ تو خوف خدا کرے کوئی

ہوگا مغرور اور بھی مغرور

آئنہ دے کے کیا کرے کوئی

سن لے اپنے فقیر کی سن لے

اک صدا ہے بھلا کرے کوئی

مفت ہی کر رہے ہیں ظلم و ستم

قرض ہو تو ادا کرے کوئی

انتہا ہو چکی خوشامد کی

اس کی مرضی کا کیا کرے کوئی

آہ لکھ کر قلم بھی توڑ دیا

حال کب تک لکھا کرے کوئی

عاشقوں کا فقط بہانہ ہے

درد ہو تو دوا کرے کوئی

لو چلو بزم غیر میں بھی چلیں

دیکھیں اعجازؔ کیا کرے کوئی