Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج کے ماحول میں انسانیت بدنام ہےیہ عناد باہمی کا ہی فقط انجام ہےDaood Mohsin (b. 1962)
  2. اب بھی اپنا خیال رکھا ہےہم نے ایماں سنبھال رکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
  3. ابھی ہے ان کی جفاؤں کی اک چبھن باقیفغاں و نوحہ گری کی ہے کچھ اگن باقیDaood Mohsin (b. 1962)
  4. اک جنوں بے مثال چاہتا ہوںبس تمہارا خیال چاہتا ہوںDaood Mohsin (b. 1962)
  5. تخم نفرت بو رہا ہے آدمیآدمیت کھو رہا ہے آدمیDaood Mohsin (b. 1962)
  6. چاندی کی ناؤ سونے کی پتوار دیکھ کرخود کو ڈبونے آ گئے منجھدار دیکھ کرDaood Mohsin (b. 1962)
  7. دیکھنا ہو گر بنا کر کانچ کا گھر دیکھناکون برساتا ہے کس جانب سے پتھر دیکھناDaood Mohsin (b. 1962)
  8. زنداں میں ہوں میں شہر نگاراں سے کیا مجھےاس گلستاں کی باد بہاراں سے کیا مجھےDaood Mohsin (b. 1962)
  9. سمجھ رہے تھے کہ اپنی سدھر گئی دنیاہمیں تو مفت میں بدنام کر گئی دنیاDaood Mohsin (b. 1962)
  10. سہما ہے آسمان زمیں بھی اداس ہےہر گاؤں اور شہر میں خوف و ہراس ہےDaood Mohsin (b. 1962)
  11. ظہر عاشقی سے ڈرتا ہوںحسن کی برہمی سے ڈرتا ہوںDaood Mohsin (b. 1962)
  12. کیا بتاتے ہیں اشارات تمہیں کیا معلومکتنے مشکوک ہیں حالات تمہیں کیا معلومDaood Mohsin (b. 1962)
  13. کیسا اندھیر کر گیا سورججانے اب کس ڈگر گیا سورجDaood Mohsin (b. 1962)
  14. میں تمہارا اپنا ہوں آنکھ کھول کر دیکھواپنے دل کو اے جاناں تم ٹٹول کر دیکھوDaood Mohsin (b. 1962)
  15. میں نے کہا کہ دل میں تو ارمان ہیں بہتاس نے کہا کہ آپ تو نادان ہیں بہتDaood Mohsin (b. 1962)
  16. ہم سے لمحات خوشی کے بھی سنبھالے نہ گئےدرد پر درد اٹھے اور وہ ٹالے نہ گئےDaood Mohsin (b. 1962)
  17. اتنے فریب کھائے ہیں قربت میں یار کیمحسنؔ فریب اور بھی کھایا نہ جائے گاDaood Mohsin (b. 1962)
  18. افسانہ درد و غم کا سنایا نہ جائے گااب زخم دل کسی کو دکھایا نہ جائے گاDaood Mohsin (b. 1962)
  19. بات تیرے نام کی ہونے لگیدل میں میرے سنسنی ہونے لگیDaood Mohsin (b. 1962)
  20. رفاقتوں کا جہاں تار تار دیکھا ہےوجود زیست کا اڑتا غبار دیکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
  21. زخم دل داغ جگر داغ تمنا کی قسمچاند سے پھول سے ڈر ہم کو یہاں ہوتا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
  22. زندگی ٹوٹ کے بکھری ہے سر راہ ابھیحادثہ کہیے اسے یا کہ تماشا کہیےDaood Mohsin (b. 1962)
  23. سارے جہاں میں قصے یہ مشہور ہو گئےبھائی ہمارے منکر دستور ہو گئےDaood Mohsin (b. 1962)
  24. ضبط کی تھی شرط دل سے جانے کیوںلمحہ لمحہ بیکلی ہونے لگیDaood Mohsin (b. 1962)
  25. کتنا عجیب تر ہے عقیدہ جناب کاپتھر کی مورتوں سے وفا مانگ رہے ہوDaood Mohsin (b. 1962)
  26. کون اپنا ہے یہاں کون پرایا کہیےکون دیتا ہے بھلا دکھ میں سہارا کہیےDaood Mohsin (b. 1962)
  27. لمحہ لمحہ پکارے جاتے ہیںکون دل کے قریب آتے ہیںDaood Mohsin (b. 1962)
  28. مسندیں تخت و تاج دستاریںکون کس کے لئے لٹاتے ہیںDaood Mohsin (b. 1962)
  29. میں چاہتا ہوں تمہیں اپنی زندگی کی طرحمرے وجود پہ چھا جاؤ چاندنی کی طرحDaood Mohsin (b. 1962)
  30. نہیں ہے پاس کسی کا کسی کو اے محسنؔکہ آزما کہ انہیں بار بار دیکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
  31. ہر ایک شام سنور جائے گی مری محسنؔہر ایک بات تمہاری ہے شاعری کی طرحDaood Mohsin (b. 1962)
  32. ہر طرف درد کا آہوں کا سماں ہوتا ہےپانی جلتا ہے سمندر میں دھواں ہوتا ہےDaood Mohsin (b. 1962)