Poetry
- آئنہ کون ہے کچھ پتا تو چلےبے خطا کون ہے کچھ پتا تو چلےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- اپنے معصوم گناہوں کی سزا کیا مانگیںدوستو تم سے وفاؤں کا صلہ کیا مانگیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- اگر کچھ سیکھنا ہے زندگی سےچلو آغاز کر لیں آج ہی سےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- ایک مرکز پہ سمٹ آئی ہے ساری دنیاہم تماشا ہیں تماشائی ہے ساری دنیاCharan Singh Bashar (b. 1957)
- اے سر پھری ہوا تجھے اس کی خبر بھی ہےتو جس طرف چلی ہے ادھر میرا گھر بھی ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- سر اٹھا کے مت چلئے آج کے زمانے میںجان جاتی رہتی ہے حوصلہ دکھانے میںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- سینے پہ کرے وار جو خنجر وہی اچھاجو کھل کے ستم ڈھائے ستم گر وہی اچھاCharan Singh Bashar (b. 1957)
- فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتےسیاست داں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کب تک رہے گا شب کا سفر دیکھنا یہ ہےہے کتنی دور اور سحر دیکھنا یہ ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کسی گم کردۂ منزل نے ہی پہرے پہ رکھی ہےوہ اک زندہ لہو کی بوند جو کانٹے پہ رکھی ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کون دل کا درد پہچانے کسے آواز دیںسوچتے رہتے ہیں دیوانے کسے آواز دیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- لاکھ کچھ نہ ہم کہتے بے زباں رہے ہوتےآپ تو بہ ہر صورت بد گماں رہے ہوتےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- میں اندھیرا ایک شب کا ترا شمع سا زمانہبھلا کیسے ہوگا ممکن کوئی مل کے گھر بساناCharan Singh Bashar (b. 1957)
- ہمیں جیسے بنا پتوار دریا پار کرتے ہیںوہ کیا موجوں سے ٹکرائیں گے جو پانی سے ڈرتے ہیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہےعلاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)