Poetry
- آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہےوہ نہ ہندو میں ہے شامل نہ مسلمان میں ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہےتیرے بغیر جو بھی ہے منظر اداس ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائےدل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوںپھر ساری کائنات غزل میں سمیٹ لوںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کیانساں جسے کہتے ہیں تصویر ہے ماتم کیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہےمجھی سے پردہ ہے میرے ہی گھر میں رہتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھےفتنہ ہر حال میں فتنہ ہے جہاں سے اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہےمحبت میں خموشی کو زباں کہنا ہی پڑتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- سونی سونی سی ہے ہر بزم سخن تیرے بعدختم ہے سلسلۂ عظمت فن تیرے بعدChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- غم کی آغوش میں جو پلتے ہیںوہی دنیا کا رخ بدلتے ہیںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنےبت تراشے گا ابھی اور یہ آذر کتنےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرحمجھے شعور ہے جینے کا آدمی کی طرحChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- وہ دل کشی وہ روشنئ بام و در گئیتم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- وہ کیا جواب دے عرض سوال سے پہلےنہ سمجھے بات جو اظہار حال سے پہلےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھےجنوں نے اس طرح انگڑائی لی دیوانے جاگ اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ہائے کتنا لطیف ہے وہ غمجس نے بخشا ہے زندگی کا شعورChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)