Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہےوہ نہ ہندو میں ہے شامل نہ مسلمان میں ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  2. ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہےتیرے بغیر جو بھی ہے منظر اداس ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  3. با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائےدل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  4. پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوںپھر ساری کائنات غزل میں سمیٹ لوںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  5. چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کیانساں جسے کہتے ہیں تصویر ہے ماتم کیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  6. حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہےمجھی سے پردہ ہے میرے ہی گھر میں رہتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  7. رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھےفتنہ ہر حال میں فتنہ ہے جہاں سے اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  8. سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہےمحبت میں خموشی کو زباں کہنا ہی پڑتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  9. سونی سونی سی ہے ہر بزم سخن تیرے بعدختم ہے سلسلۂ عظمت فن تیرے بعدChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  10. غم کی آغوش میں جو پلتے ہیںوہی دنیا کا رخ بدلتے ہیںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  11. کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنےبت تراشے گا ابھی اور یہ آذر کتنےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  12. میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرحمجھے شعور ہے جینے کا آدمی کی طرحChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  13. وہ دل کشی وہ روشنئ بام و در گئیتم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  14. وہ کیا جواب دے عرض سوال سے پہلےنہ سمجھے بات جو اظہار حال سے پہلےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  15. ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھےجنوں نے اس طرح انگڑائی لی دیوانے جاگ اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  16. ہائے کتنا لطیف ہے وہ غمجس نے بخشا ہے زندگی کا شعورChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)