Poetry
- پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبثقتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبثبیاں احسن اللہ خان
- تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہاتو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہابیاں احسن اللہ خان
- تیغ چڑھ اس کی سان پر آئیدیکھیں کس کس کی جان پر آئیبیاں احسن اللہ خان
- جادو تھی سحر تھی بلا تھیظالم یہ تری نگاہ کیا تھیبیاں احسن اللہ خان
- جا کہے کوئے یار میں کوئیمر گیا انتظار میں کوئیبیاں احسن اللہ خان
- جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیںآسماں پر دماغ رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
- دل اب اس دل شکن کے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاںبیاں احسن اللہ خان
- رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئیوہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئیبیاں احسن اللہ خان
- زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھےتیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھےبیاں احسن اللہ خان
- شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروںیا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروںبیاں احسن اللہ خان
- فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیرواں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیربیاں احسن اللہ خان
- کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہےمرا مقصود جاتا ہے مرا مطلوب جاتا ہےبیاں احسن اللہ خان
- کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھاسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھابیاں احسن اللہ خان
- کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجومجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجوبیاں احسن اللہ خان
- کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہوپر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہوبیاں احسن اللہ خان
- لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیاجو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیابیاں احسن اللہ خان
- مت ستا مجھ کو آن آن عزیزٹک کہا بھی کسی کا مان عزیزبیاں احسن اللہ خان
- میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتاگرد غم دل سے دھو نہیں سکتابیاں احسن اللہ خان
- نہ فقط یار بن شراب ہے تلخعیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخبیاں احسن اللہ خان
- یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہوجا کر نجف میں خاک در بو تراب ہوبیاں احسن اللہ خان
- یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذبیاں احسن اللہ خان
- یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیںنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
- عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہےقہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہےبیاں احسن اللہ خان