Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبثقتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبثبیاں احسن اللہ خان
  2. تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہاتو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہابیاں احسن اللہ خان
  3. تیغ چڑھ اس کی سان پر آئیدیکھیں کس کس کی جان پر آئیبیاں احسن اللہ خان
  4. جادو تھی سحر تھی بلا تھیظالم یہ تری نگاہ کیا تھیبیاں احسن اللہ خان
  5. جا کہے کوئے یار میں کوئیمر گیا انتظار میں کوئیبیاں احسن اللہ خان
  6. جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیںآسماں پر دماغ رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
  7. دل اب اس دل شکن کے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاںبیاں احسن اللہ خان
  8. رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئیوہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئیبیاں احسن اللہ خان
  9. زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھےتیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھےبیاں احسن اللہ خان
  10. شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروںیا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروںبیاں احسن اللہ خان
  11. فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیرواں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیربیاں احسن اللہ خان
  12. کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہےمرا مقصود جاتا ہے مرا مطلوب جاتا ہےبیاں احسن اللہ خان
  13. کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھاسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھابیاں احسن اللہ خان
  14. کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجومجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجوبیاں احسن اللہ خان
  15. کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہوپر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہوبیاں احسن اللہ خان
  16. لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیاجو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیابیاں احسن اللہ خان
  17. مت ستا مجھ کو آن آن عزیزٹک کہا بھی کسی کا مان عزیزبیاں احسن اللہ خان
  18. میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتاگرد غم دل سے دھو نہیں سکتابیاں احسن اللہ خان
  19. نہ فقط یار بن شراب ہے تلخعیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخبیاں احسن اللہ خان
  20. یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہوجا کر نجف میں خاک در بو تراب ہوبیاں احسن اللہ خان
  21. یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذبیاں احسن اللہ خان
  22. یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیںنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
  23. عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہےقہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہےبیاں احسن اللہ خان