Poetry
- اسیران حوادث کی گراں جانی نہیں جاتیجہاں سے خون انسانی کی ارزانی نہیں جاتیBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- اطاق شب میں سحر کے چراغ روشن کرقبائے دل ہی نہیں دل کے داغ روشن کرBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریںبگڑے ہوئے ہیں شہر کے حالات کیا کریںBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سےپکارتی ہے انہیں منزل طلب کب سےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- تشنگئ لب پہ ہم عکس آب لکھیں گےجن کا گھر نہیں کوئی گھر کے خواب لکھیں گےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- جو پی رہا ہے سدا خون بے گناہوں کاوہ شخص تو ہے نمائندہ کج کلاہوں کاBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیاوہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیاBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- دیدۂ بے رنگ میں خوں رنگ منظر رکھ دیےہم نے اس دشت تپاں میں بھی سمندر رکھ دیےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- رت نہ بدلے تو بھی افسردہ شجر لگتا ہےاور موسم کے تغیر سے بھی ڈر لگتا ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- رخ حیات ہے شرمندۂ جمال بہتجمی ہوئی ہے ابھی گرد ماہ و سال بہتBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- سمندر کا تماشہ کر رہا ہوںمیں ساحل بن کے پیاسا مر رہا ہوںBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- صفحۂ قرطاس پر خوش رنگ تحریریں نہیںاپنے قبضے میں ابھی لفظوں کی جاگیریں نہیںBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھیمقتل میں خون گرم کی ہر دھار بول اٹھیBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنازندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھناBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہےپریشانی کی رت جاتی نہیں ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہےمیں وہ زندہ ہوں میری تحریر رہنے کے لیے ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- مشقت کا خزانہ مانگتا ہےمری محنت زمانہ مانگتا ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)