Poetry
- آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہےپوچھا نہ کبھو مجھ کو وہ بیمار کہاں ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچےبلبلاتی ہوئی گلزار میں بلبل پہنچےعبدالرحمان احسان دہلوی
- بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کیمٹی مری اس خاک نے ہی خوار بہت کیعبدالرحمان احسان دہلوی
- پوچھی نہ خبر کبھی ہماریلی خوب خبر اجی ہماریعبدالرحمان احسان دہلوی
- پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظشکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظعبدالرحمان احسان دہلوی
- تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایادیا سرمہ بھی اور چپکا نہ پایاعبدالرحمان احسان دہلوی
- تو آج آئینہ رو مجھ پاس آ جابہر صورت مجھے صورت دکھا جاعبدالرحمان احسان دہلوی
- تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دنکہ ماہتاب کی راتیں ہیں آفتاب کے دنعبدالرحمان احسان دہلوی
- تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پروازطائر جان کے یہ پر ہیں برائے پروازعبدالرحمان احسان دہلوی
- چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئیاے ستم گر ترے ہاتھوں سے کدھر جائے کوئیعبدالرحمان احسان دہلوی
- دکھلا دو نقش پائے رسول امین کوتا مشق سجدہ ہو مرے لوح جبین کوعبدالرحمان احسان دہلوی
- دل بر یہ وہ ہے جس نے دل کو دغا دیا ہےاے چشم دیکھ تجھ کو میں نے سجھا دیا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمزہیں ترے ناز کے صدقے اسی انداز سے رمزعبدالرحمان احسان دہلوی
- دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہاآپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہاعبدالرحمان احسان دہلوی
- دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوشپردہ در خیام عقل رخنہ گر حریم ہوشعبدالرحمان احسان دہلوی
- ذات اس کی کوئی عجب شے ہےجس سے سب واقعی عجب شے ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہےفدوی ہے فدا ہوا کھڑا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہےہے وہ اک باد فروش اور ہوا باندھے ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتاچراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتاعبدالرحمان احسان دہلوی
- کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہماراجی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہماراعبدالرحمان احسان دہلوی
- کس سے احوال کہوں اپنا میں اے یار کہ تومل کے اغیار سے مجھ سے ہے بیزار کہ توعبدالرحمان احسان دہلوی
- کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نےمر کہا تو نے مرحبا میں نےعبدالرحمان احسان دہلوی
- گلی سے تری جو کہ اے جان نکلاگریباں سے دست و گریبان نکلاعبدالرحمان احسان دہلوی
- مانگو ہو ابھی دل مجھے نادان سمجھ کرپھر دوں گا جواب اس کا مری جان سمجھ کرعبدالرحمان احسان دہلوی
- محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھےہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھےعبدالرحمان احسان دہلوی
- مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریبجی کو ٹھنڈک ہو تپ غم نہ مرے آئے قریبعبدالرحمان احسان دہلوی
- میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھاکیوں میری طرف دیکھ کے تلوار کو دیکھاعبدالرحمان احسان دہلوی
- میں یاں بیٹھا تو تم واں اٹھ گئے اے یار کیا باعثہوئے بے دل ہی اپنے آپ کیوں بیزار کیا باعثعبدالرحمان احسان دہلوی
- نہ ادا مجھ سے ہوا اس ستم ایجاد کا حقمیری گردن پہ رہا خنجر بیداد کا حقعبدالرحمان احسان دہلوی
- نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہےنکل اے جان تو ہی وہ نہیں گھر سے نکلتا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گانیم جانوں کا ابھی کام رواں کیجئے گاعبدالرحمان احسان دہلوی
- ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کاچلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کاعبدالرحمان احسان دہلوی
- یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگاالٰہی کبھو یاں بھی اسلام ہوگاعبدالرحمان احسان دہلوی
- احسان جو اجل سے کام تیرا بگڑےاس وقت نہ ہو دل میں جہاں کے جھگڑےعبدالرحمان احسان دہلوی
- ہیں ایک حکیم جی بہ شکل طاعونہے رقص تقسیم مخل ان کا قانونعبدالرحمان احسان دہلوی
- صوفی ہوں نہ واعظ ہوں نہیں ہوں ملابلبل نہیں اے گل جو کہوں میں گل لاعبدالرحمان احسان دہلوی
- جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کیاور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کیعبدالرحمان احسان دہلوی
- خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیںمرا سر رہے آستانہ بہت ہیںعبدالرحمان احسان دہلوی
- ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تریپڑی ہے چار طرف اک تراہ تراہ تریعبدالرحمان احسان دہلوی
- سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والےعرش اعظم کے یہ نالے ہیں بلانے والےعبدالرحمان احسان دہلوی