Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہےپوچھا نہ کبھو مجھ کو وہ بیمار کہاں ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  2. باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچےبلبلاتی ہوئی گلزار میں بلبل پہنچےعبدالرحمان احسان دہلوی
  3. بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کیمٹی مری اس خاک نے ہی خوار بہت کیعبدالرحمان احسان دہلوی
  4. پوچھی نہ خبر کبھی ہماریلی خوب خبر اجی ہماریعبدالرحمان احسان دہلوی
  5. پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظشکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظعبدالرحمان احسان دہلوی
  6. تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایادیا سرمہ بھی اور چپکا نہ پایاعبدالرحمان احسان دہلوی
  7. تو آج آئینہ رو مجھ پاس آ جابہر صورت مجھے صورت دکھا جاعبدالرحمان احسان دہلوی
  8. تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دنکہ ماہتاب کی راتیں ہیں آفتاب کے دنعبدالرحمان احسان دہلوی
  9. تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پروازطائر جان کے یہ پر ہیں برائے پروازعبدالرحمان احسان دہلوی
  10. چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئیاے ستم گر ترے ہاتھوں سے کدھر جائے کوئیعبدالرحمان احسان دہلوی
  11. دکھلا دو نقش پائے رسول امین کوتا مشق سجدہ ہو مرے لوح جبین کوعبدالرحمان احسان دہلوی
  12. دل بر یہ وہ ہے جس نے دل کو دغا دیا ہےاے چشم دیکھ تجھ کو میں نے سجھا دیا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  13. دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمزہیں ترے ناز کے صدقے اسی انداز سے رمزعبدالرحمان احسان دہلوی
  14. دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہاآپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہاعبدالرحمان احسان دہلوی
  15. دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوشپردہ در خیام عقل رخنہ گر حریم ہوشعبدالرحمان احسان دہلوی
  16. ذات اس کی کوئی عجب شے ہےجس سے سب واقعی عجب شے ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  17. غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہےفدوی ہے فدا ہوا کھڑا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  18. غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہےہے وہ اک باد فروش اور ہوا باندھے ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  19. فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتاچراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتاعبدالرحمان احسان دہلوی
  20. کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہماراجی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہماراعبدالرحمان احسان دہلوی
  21. کس سے احوال کہوں اپنا میں اے یار کہ تومل کے اغیار سے مجھ سے ہے بیزار کہ توعبدالرحمان احسان دہلوی
  22. کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نےمر کہا تو نے مرحبا میں نےعبدالرحمان احسان دہلوی
  23. گلی سے تری جو کہ اے جان نکلاگریباں سے دست و گریبان نکلاعبدالرحمان احسان دہلوی
  24. مانگو ہو ابھی دل مجھے نادان سمجھ کرپھر دوں گا جواب اس کا مری جان سمجھ کرعبدالرحمان احسان دہلوی
  25. محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھےہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھےعبدالرحمان احسان دہلوی
  26. مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریبجی کو ٹھنڈک ہو تپ غم نہ مرے آئے قریبعبدالرحمان احسان دہلوی
  27. میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھاکیوں میری طرف دیکھ کے تلوار کو دیکھاعبدالرحمان احسان دہلوی
  28. میں یاں بیٹھا تو تم واں اٹھ گئے اے یار کیا باعثہوئے بے دل ہی اپنے آپ کیوں بیزار کیا باعثعبدالرحمان احسان دہلوی
  29. نہ ادا مجھ سے ہوا اس ستم ایجاد کا حقمیری گردن پہ رہا خنجر بیداد کا حقعبدالرحمان احسان دہلوی
  30. نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہےنکل اے جان تو ہی وہ نہیں گھر سے نکلتا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  31. نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گانیم جانوں کا ابھی کام رواں کیجئے گاعبدالرحمان احسان دہلوی
  32. ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کاچلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کاعبدالرحمان احسان دہلوی
  33. یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگاالٰہی کبھو یاں بھی اسلام ہوگاعبدالرحمان احسان دہلوی
  34. احسان جو اجل سے کام تیرا بگڑےاس وقت نہ ہو دل میں جہاں کے جھگڑےعبدالرحمان احسان دہلوی
  35. ہیں ایک حکیم جی بہ شکل طاعونہے رقص تقسیم مخل ان کا قانونعبدالرحمان احسان دہلوی
  36. صوفی ہوں نہ واعظ ہوں نہیں ہوں ملابلبل نہیں اے گل جو کہوں میں گل لاعبدالرحمان احسان دہلوی
  37. جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کیاور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کیعبدالرحمان احسان دہلوی
  38. خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیںمرا سر رہے آستانہ بہت ہیںعبدالرحمان احسان دہلوی
  39. ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تریپڑی ہے چار طرف اک تراہ تراہ تریعبدالرحمان احسان دہلوی
  40. سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والےعرش اعظم کے یہ نالے ہیں بلانے والےعبدالرحمان احسان دہلوی