Poetry
- آج یوں دل نے ان کا نام لیاجیسے گرتے ہوئے کو تھام لیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گاجب تم نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہے گاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیاوہ انگلیاں اٹھیں کہ میں دیوانہ بن گیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہاجئے تو جاتے ہیں جینے کا حوصلہ نہ رہاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- پہونچی نہ دل کی بات حدود پیام تکباقی ہیں ان پہ کتنے جواب سلام تکAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگابہت ترسے ہیں ساقی ایک پیمانے سے کیا ہوگاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتاہم آ کے جو بیٹھے ہیں تو جانا نہیں آتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- جنوں بگڑی ہوئی حالات کے بننے کا گماں کب تکگریباں جا چکا کب کا رہیں گی دھجیاں کب تکAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- جو خود نہ اپنے ارادے سے بد گماں ہوتاقدم اٹھاتے ہی منزل پہ کارواں ہوتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- حسن کی فطرت میں دل آزاریاںاس پہ ظالم نت نئی تیاریاںAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پررات کٹتی ہے دہکتے ہوئے انگاروں پرAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھاخواب ہی ٹھہرا تو جتنی دیر دیکھا خوب تھاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھاقفس سے چھوٹ کے کیا خوب آشیاں دیکھاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہےگھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہےAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- کب پھول کھلیں شغل چھڑے جامہ دری کاسوئے تھے سر شام کھلی پچھلے پہر آنکھAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- مایوس خود بہ خود دل امیدوار ہےاس گل میں بو خزاں کی ہے رنگ بہار ہےAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایاوہ کیا چاہتے ہیں سمجھ میں نہ آیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- وقار ضبط یہی دل کو دل بنا کے رہاجہاں سے درد اٹھا تھا وہیں سما کے رہاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- ہمیں نے ان کی طرف سے منا لیا دل کووہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- ہے مذاق زندہ دلی یہی اسی مصلحت نے مزا دیانہ جدا ہو دل سے کسک کبھی وہ مزاج درد بنا دیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئیآپ بھی پھر مجھے ڈھونڈے تو نہ پائے کوئیAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- ان کے ستم بھی کہہ نہیں سکتے کسی سے ہمگھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں عجب بے بسی سے ہمAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- تم رضاؔ بن کے مسلمان جو کافر ہی رہےتم سے بہتر ہے وہ کافر جو مسلماں نہ ہواAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانویہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانوAal-e-Raza Raza (1896–1978)