پہونچی نہ دل کی بات حدود پیام تک
Aal-e-Raza Raza (1896–1978)پہونچی نہ دل کی بات حدود پیام تک
باقی ہیں ان پہ کتنے جواب سلام تک
بت خانہ ساز رنگ زمانہ ہے کس قدر
چھوڑا نہ اس نے کعبۂ عالی مقام تک
مانوس ہو رہے ہیں تری جلوہ گاہ سے
پہونچے ابھی ہیں منزل ماہ تمام تک
جب تک رہے وہ میری نگاہوں کے سامنے
ٹھہری نہ ایک رخ سے ادائے خرام تک
دل دے کے ان کو آپ سے ایسے گزر گئے
جیسے کہ ہم تھے صرف اسی انتظام تک
انجام کار شب کے اندھیرے میں لٹ گیا
رکھا تھا کیف صبح بچا کر جو شام تک
اس طرح کر رہے ہیں رضاؔ کا وہ تذکرہ
خالی نہیں ہے طنز سے حسن کلام تک