سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھا
Aal-e-Raza Raza (1896–1978)سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھا
خواب ہی ٹھہرا تو جتنی دیر دیکھا خوب تھا
آگ دے دے کر بحد آشیاں یہ انتقام
تنکا تنکا کیوں کسی کو اس قدر محبوب تھا
وہ نگاہوں کے پیام اور وہ پیاموں کی بہار
دیکھیے میری طرف وہ بھی زمانہ خوب تھا
اب تو سودائے محبت ہے فقط دیوانگی
ورنہ سودائے محبت کا بھی اک اسلوب تھا
کب کھلا عقدہ رضاؔ جب کر چکے اظہار شوق
مدعا جائز تھا حرف مدعا معیوب تھا