Poetry
- پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہےپر مطمئن ہوں رات ترے شہر کی تو ہےAabid Adeeb (b. 1937)
- جب جب بھی دیکھیے اسے خوں بار سی لگےدنیا ہمیشہ برسر پیکار سی لگےAabid Adeeb (b. 1937)
- حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمامآسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمامAabid Adeeb (b. 1937)
- سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقیمسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقیAabid Adeeb (b. 1937)
- سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیںہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیںAabid Adeeb (b. 1937)
- شریک عالم کیف و سرور میں بھی تھاکہ رات جشن میں تیرے حضور میں بھی تھاAabid Adeeb (b. 1937)
- کارنامہ اے غم دل کچھ ترا یہ کم نہیںبہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیںAabid Adeeb (b. 1937)
- کیسی کیسی راہ میں دیواریں کرتے ہیں حائل لوگپھر بھی منزل پا لیتے ہیں ہم جیسے زندہ دل لوگAabid Adeeb (b. 1937)
- گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کاقلب شکستہ اور یہ عالم گداز کاAabid Adeeb (b. 1937)
- میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوںکہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوںAabid Adeeb (b. 1937)
- یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگاوہ کل یہاں مرا مہمان بن چکا ہوگاAabid Adeeb (b. 1937)
- یہ ہے آب رواں نہ ٹھہرے گاعمر کا کارواں نہ ٹھہرے گاAabid Adeeb (b. 1937)
- آرزؤں کو وسعت نہ دواپنے ہی دائرے میں مقید کروAabid Adeeb (b. 1937)
- رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو پھر تھم گیا ہےہوائیں تیز ہیں سانسوں کی ہلچل رک گئی ہےAabid Adeeb (b. 1937)
- مختلف موضوعات پررات بھر باتیں کرکے وہ لوگAabid Adeeb (b. 1937)
- آگ کے شعلے اتارو حلق میںگاڑ دو کیلیں دھڑکتی چھاتیوں میںAabid Adeeb (b. 1937)
- پھر مجھے ایسا لگاجیسے کاغذ پر سیاہی پھیلنے سےAabid Adeeb (b. 1937)
- کوئی میرے لرزتے ہاتھ میںکاغذ کا پرزہ اور قلم پکڑا رہا تھاAabid Adeeb (b. 1937)
- وہ جد و جہد کرنا چاہتا تھامگر جب سے اس نےAabid Adeeb (b. 1937)
- یہاں تو نہ پیڑ ہے نہ سایہنہ گھر ہے نہ گھر میں رہنے والےAabid Adeeb (b. 1937)
- امیر کارواں ہے تنگ ہم سےہمارا راستا سب سے الگ ہےAabid Adeeb (b. 1937)