Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہےپر مطمئن ہوں رات ترے شہر کی تو ہےAabid Adeeb (b. 1937)
  2. جب جب بھی دیکھیے اسے خوں بار سی لگےدنیا ہمیشہ برسر پیکار سی لگےAabid Adeeb (b. 1937)
  3. حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمامآسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمامAabid Adeeb (b. 1937)
  4. سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقیمسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقیAabid Adeeb (b. 1937)
  5. سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیںہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیںAabid Adeeb (b. 1937)
  6. شریک عالم کیف و سرور میں بھی تھاکہ رات جشن میں تیرے حضور میں بھی تھاAabid Adeeb (b. 1937)
  7. کارنامہ اے غم دل کچھ ترا یہ کم نہیںبہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیںAabid Adeeb (b. 1937)
  8. کیسی کیسی راہ میں دیواریں کرتے ہیں حائل لوگپھر بھی منزل پا لیتے ہیں ہم جیسے زندہ دل لوگAabid Adeeb (b. 1937)
  9. گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کاقلب شکستہ اور یہ عالم گداز کاAabid Adeeb (b. 1937)
  10. میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوںکہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوںAabid Adeeb (b. 1937)
  11. یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگاوہ کل یہاں مرا مہمان بن چکا ہوگاAabid Adeeb (b. 1937)
  12. یہ ہے آب رواں نہ ٹھہرے گاعمر کا کارواں نہ ٹھہرے گاAabid Adeeb (b. 1937)
  13. آرزؤں کو وسعت نہ دواپنے ہی دائرے میں مقید کروAabid Adeeb (b. 1937)
  14. رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو پھر تھم گیا ہےہوائیں تیز ہیں سانسوں کی ہلچل رک گئی ہےAabid Adeeb (b. 1937)
  15. مختلف موضوعات پررات بھر باتیں کرکے وہ لوگAabid Adeeb (b. 1937)
  16. آگ کے شعلے اتارو حلق میںگاڑ دو کیلیں دھڑکتی چھاتیوں میںAabid Adeeb (b. 1937)
  17. پھر مجھے ایسا لگاجیسے کاغذ پر سیاہی پھیلنے سےAabid Adeeb (b. 1937)
  18. کوئی میرے لرزتے ہاتھ میںکاغذ کا پرزہ اور قلم پکڑا رہا تھاAabid Adeeb (b. 1937)
  19. وہ جد و جہد کرنا چاہتا تھامگر جب سے اس نےAabid Adeeb (b. 1937)
  20. یہاں تو نہ پیڑ ہے نہ سایہنہ گھر ہے نہ گھر میں رہنے والےAabid Adeeb (b. 1937)
  21. امیر کارواں ہے تنگ ہم سےہمارا راستا سب سے الگ ہےAabid Adeeb (b. 1937)