Poetry
Poet
Meter
- حسن سرشار ترا داروۓ بے ہوشی ہےہوش میں کون ہے کس کو سر مے نوشی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- حسن ہر نونہال رکھتا ہےکوئی تجھ سا جمال رکھتا ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- حصول فقر گر چاہے تو چھوڑ اسباب دنیا کولگا دے آگ یکسر بستر سنجاب و دیبا کوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- حیف ہے ایسی زندگانی پرکہ فدا ہو نہ یار جانی پرMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- خاک عاشق ہے جو ہووے ہے نثار دامناے مری جان تو مت جھاڑ غبار دامنMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- خرقہ رہن شراب کرتا ہوںدل زاہد کباب کرتا ہوںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دل سلامت اگر اپنا ہے تو دل دار بہتہے یہ وہ جنس کہ جس کے ہیں خریدار بہتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دل سے پوچھا تو کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیاکس کی زلفوں میں نہاں ہے تو کہا تجھ کو کیاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دل کو میں آج ناصحاں اس کو دیا جو ہو سو ہوراہ میں عشق کے قدم اب تو رکھا جو ہو سو ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دور سے بات خوش نہیں آتییوں ملاقات خوش نہیں آتیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دیتا نہیں دل لے کے وہ مغرور کسی کاسچ ہے کہ نہ ظالم سے چلے زور کسی کاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دیکھ اس پری سے کیجئے کیا اب تو جا لگیچھوٹی ہی کوئی بات ہے پھر یہ بلا لگیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئیابھی یاں چھین لیے جبہ و دستار کئیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوشاگر پوچھو تو ہے ہم سے ہی نا خوشMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- شبنم تو باغ میں ہے نہ یوں چشم تر کہ ہمغنچہ بھی اس قدر ہے نہ خونی جگر کہ ہمMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- صفا الماس و گوہر سے فزوں ہے تیرے دنداں کیکہاں تجھ لب کے آگے قدر و قیمت لعل و مرجاں کیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- عاشق نہ اگر وفا کرے گاپھر اور کہو تو کیا کرے گاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- غم جگر شکن و درد جاں ستاں دیکھاتمہارے عشق میں کیا کیا نہ مہرباں دیکھاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- فقط قضیہ یہی ہے فن طبعی اور الٰہی میںجو علم معرفت چاہے تو رہ یاد الٰہی میںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- قاصد اس کا پیام کچھ بھی ہےکہہ دعا یا سلام کچھ بھی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کچھ نہ ایدھر ہے نے ادھر تو ہےجس طرف کیجئے نظر تو ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کل وہ جو پئے شکار نکلاہر دل ہو امیدوار نکلاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہےحسن کے میزاں میں تیرے مہر و مہ پاسنگ ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کوئی کس طرح تم سے سر بر ہوسخت بے رحم ہو ستم گر ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گااسی طرح گر تو مقابل رہے گاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کھو دیا نور بصیرت تو نے ما و من کے بیچجلوہ گر تھا ورنہ وہ خورشید تیرے من کے بیچMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- کیوں نہ لے گلشن سے باج اس ارغواں سیما کا رنگگل سے ہے خوش رنگ تر اس کے حنائی پا کا رنگMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گر اسی طرح سج بنائیے گامحشر آباد کر دکھائیے گاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گر ایک رات گزر یاں وہ رشک ماہ کرےعجب نہیں کہ گدا پر کرم جو شاہ کرےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھانہ گیا ہم سے آنکھ بھر دیکھاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گیا ہے جب سے دکھا جلوہ وہ پری رخسارنہ خواب دیدۂ گریاں میں ہے نہ دل کو قرارMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- لب رنگیں ہیں ترے رشک عقیق یمنیزیب دیتی ہے تجھے نام خدا کم سخنیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- لے چکے دل تو جنگ کیا ہے ابآ ملو پھر درنگ کیا ہے ابMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کےجس طور کٹے کاٹے ایام مصیبت کےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- محو رخ یار ہو گئے ہمسو جی سے نثار ہو گئے ہمMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مست ہم کو شراب میں رہناکچھ ہو اس سیر آب میں رہناMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مقدور کیا مجھے کہ کہوں واں کہ یاں رہےہیں چشم و دل گھر اس کے جہاں چاہے واں رہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہےہر طفل کے یاں اشک سے آلودہ ورق ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مہر خوباں خانہ افروز دل افسردہ ہےشعلہ آب زندگانیٔ چراغ مردہ ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- میر مجلس رنداں آج وہ شرابی ہےخون دل جسے میرا بادۂ گلابی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہواسنگ غیرت سے مرا شیشۂ دل چور ہواMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مے و ساقی ہیں سب یکجا اَہاہاہا اَہاہاہاعجب عالم ہے مستی کا اَہاہاہا اَہاہاہاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئےاتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- نہ دیا اس کوں یا دیا قاصدسچ بتا نامہ کیا کیا قاصدMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- نہ غم دل نہ فکر جاں ہے یادایک تیری ہی بر زباں ہے یادMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- نے فقط تجھ حسن کی ہے ہند کی خوباں میں دھومہے تری زلف چلیپا کی فرنگستاں میں دھومMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- وجد اہل کمال ہے کچھ اورشیخ صاحب کا حال ہے کچھ اورMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ہم پہ سو ظلم و ستم کیجئے گاایک ملنے کو نہ کم کیجئے گاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیںورنہ نالے تو یہ پتھر میں اثر کرتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ہم ہی تنہا نہ تری چشم کے بیمار ہوئےاس مرض میں تو کئی ہم سے گرفتار ہوئےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)