Poetry
Poet
Meter
- وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہےتری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہےخزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کاکوڑے کا ہو گیا ہے کٹورا گلاب کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیارات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئےنفس امارہ کی گردن کو مروڑا چاہئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہےزمیں یاں کی چہارم آسماں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- جاں بخش لب کے عشق میں ایذا اٹھائیےبیمار ہو کے ناز مسیحا اٹھائیےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتشکبھی تازہ نہ لیکن اپنے دل کا یہ کنول پایاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کومقدر میں جو دولت ہو تو زر ہو خاک سے پیداHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کامشتاق ہوں فرشتۂ صاحب جمال کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- آج وہ شوخ رنگیلا جو چمن میں آوےسرو چلنے کو لگے غنچہ سخن میں آوےLal Chand Rangeen Aurangabadi (b. 1780)
- دوستوں گل کا یہ فسانا ہےآج ٹک سنیو کیا زمانا ہےQadr Aurangabadi (b. 1785)
- ساقی گیا ہے روٹھ کے ہم سے ہزار حیفآتی ہے کیوں تو دھوم سے اب کے بہار حیفQadr Aurangabadi (b. 1785)
- آ تیری گلی میں مر گئے ہممنظور جو تھا سو کر گئے ہمMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- آنے دو اپنے پاس مجھ کوکرنا ہے کچھ التماس مجھ کوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- آہ اے یار کیا کروں تجھ بننالۂ زار کیا کروں تجھ بنMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- آہ ملتے ہی پھر جدائی کیواہ کیا خوب آشنائی کیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- اب تک مرے احوال سے واں بے خبری ہےاے نالۂ جاں سوز یہ کیا بے اثری ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیےکچھ ہمیں کہنا ہے پیارے آئیےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- اس ستم گر سے جو ملا ہوگاجان سے ہاتھ دھو چکا ہوگاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- انجمن ساز عیش تو ہے یہاںاور پھر کس کی آرزو ہے یہاںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- اوروں کی بات یاں بہت کم ہےذکر خیر آپ کا ہی ہر دم ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ایک دن مدتوں میں آئے ہوآہ تس پر بھی منہ چھپائے ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کروپھر مری جان جو کچھ چاہو سو بیداد کروMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- اے شمع دل افروز شب تار محبتبخشے ہے یہی گرمی بازار محبتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بہار گلشن ایام ہوں میںسحر نور و سواد شام ہوں میںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میںکہ در ریزی تو کرتا ہے سخن میںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبتبس دل ہے مرا محرم اسرار محبتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشناجس کے یہ اوصاف کوئی اس سے ہو کیا آشناMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- پاوے کس طرح کوئی کس کو ہے مقدور ہمیںلے گیا عشق ترا کھینچ بہت دور ہمیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تجھ بن آرام جاں کہاں ہے مجھےزندگانی وبال جاں ہے مجھےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تجھ بن سرشک خوں کا ہے آنکھوں سے طغیاں اس قدربرسا نہیں اب تک کہیں ابر بہاراں اس قدرMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہویہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیااس معرکے میں پائے تحمل بھی چل گیاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھآگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تیرے حیرت زدگاں اور کہاں جاتے ہیںکہیے گر آپ سے جاتے ہیں تو ہاں جاتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیںجھوٹ کہتے ہیں کہ جاتے ہیں کہاں جاتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تیرے مژگاں ہی نہ پہلو مارتے ہیں تیرےہم سری رکھتے ہیں ابرو بھی دم شمشیر سےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظہے زندگی اب مشکل بے یار خدا حافظMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جانوں میں نہ جبکہ نام اس کاپوچھوں کیا کہہ مقام اس کاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جب تک کہ دل نہ لاگا ان بے مروتوں سےایام اپنے گزرے کیا کیا فراغتوں سےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جس دن تم آ کے ہم سے ہم آغوش ہو گئےشکوے جو دل میں تھے سو فراموش ہو گئےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جس وقت تو بے نقاب آوےہوگا کوئی جس کو تاب آوےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جلوہ دکھا کے گزرا وہ نور دیدگاں کاتاریک کر گیا گھر حسرت کشیدگاں کاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سےوگرنہ کرتے ہیں گل کار خار آنکھوں سےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جو کچھ کہ تھا وظائف و اوراد رہ گیاتیرا ہی ایک نام فقط یاد رہ گیاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جو وہ بہار عذار خوبی چمن میں آتا خرام کرتاصنوبر و سرو ہر ایک آ کر ضرور اس کو سلام کرتاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہجام مے ہاتھ سے لو میرے پیو بسم اللہMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- چمن لالہ یہ الفت تری دکھلاتی ہےسینکڑوں داغ ہیں اور ایک مری چھاتی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)