لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب

Mir Mohammadi Bedar (d. 1786)

لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب

آ ملو پھر درنگ کیا ہے اب

پی گئے خم کے خم نہ کی مستی

یاں شراب فرنگ کیا ہے اب

اس نگہ کا ہے دل جراحت کش

زخم تیغ و خدنگ کیا ہے اب

ہوں میں دریائے عشق کا غواص

خوف کام نہنگ کیا ہے اب

دید و وا دید تو ہوے باہم

شرم اے شوخ و سنگ کیا ہے اب

دل سے وحشی کے تئیں شکار کیا

صید شیر و پلنگ کیا ہے اب

تھی جو رسوائی ہو چکی بیدارؔ

پاس ناموس و ننگ کیا ہے اب