دوستوں گل کا یہ فسانا ہے

Qadr Aurangabadi (b. 1785)

دوستوں گل کا یہ فسانا ہے

آج ٹک سنیو کیا زمانا ہے

مجھ کو کہنے لگا وو تنہا گرد

دوستی تجھ کو گر نبھانا ہے

سات پھر مت مرے گلی بہ گلی

تجھ کو کوئی جانے گا دوانا ہے

یہ روش خوب نئیں تری ناداں

عشق عالم کو کیا جتانا ہے

مجھ کماں ابرو سات جو آیا

تیر مژگاں کا وہ نشانا ہے

میں کیا عرض اے کرم فرما

عاشقوں کو یہ کیا ستانا ہے

دیکھنا تیرا ہر گھڑی مجھ کو

زندگی کا یہی بہانا ہے

ورنہ میں کب سے مر چکا ہوتا

صرف یہ کیا زباں پہ لانا ہے

سب سمجھ بوجھ کر ارے ظالم

آپ ہنسنا مجھے رلانا ہے

تب وہ غصہ سے شوخ کہنے لگا

اب میں جانا کہ تو دوانا ہے

ووہیں آیا زباں پہ یہ مطلع

دل بھی کس طور کا سیانا ہے

دوستی تب ہی کچھ نبھانا ہے

بات کہنے میں روٹھ جانا ہے