Poetry
- لذت چاہو تو وصل معشوق کہاںشوکت چاہو تو زر کا صندوق کہاںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتاہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیزAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہےمگر یوں ہی کہ گویا آب زمزم مے میں داخل ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنایہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہناAkbar Allahabadi (1846–1921)
- وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاںاغیار ان پر گزرتے ہیں اب خندہ زناںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہےنہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہندیہ جھوٹ کہ ملک لچھمنؔ و رامؔ ہے ہندAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑیناحق تجھے ہم نشیں ہے فکر اس کی پڑیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیںجو ایک کرے ادھر طبیعت ہی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھادل ہونا برا ہے پیٹ ہونا اچھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- افسوس ان پر فلک نے پایا قابومطلق نہیں ان میں رنگ ڈھونڈو یا بوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- افسوس سفید ہو گئے بال ترےلیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- افسوس ہے بد گماں کی آزادی پرخالق کبھی خوش نہ ہوگا بربادی پرAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میںاور تیرے بیان کی دلآویزی میںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہیمرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھالائے جو راہ پر وہی ڈھنگ اچھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہولائل سبجیکٹ تم برٹش کے رہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہوتقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقیبے شک پردے کی ہے ضرورت باقیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیںجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہےکر صبر کہ خود وہ کار بد کرتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- در پر مظلوم اک پڑا روتا ہےبچارا بلا میں مبتلا روتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیںرونق نہیں اس کی جس کا دل گرم نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دنیا کرتی ہے آدمی کو بربادافکار سے رہتی ہے طبیعت ناشادAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہےلطف حسن بتان دل خواہ بھی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوالپکا جو سایہ پر وہ دیوانہ ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہےحیراں ہیں ملک بشر بچارا کیا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رکھو جو مقابل اس کے سارا عالمدنیا بخدا ہے اک ذرے سے بھی کمAkbar Allahabadi (1846–1921)
- روزی مل جائے مال و دولت نہ سہیراحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہےہم لوگوں سے کمپ کو پرے رکھا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سواکہتا نہیں کوئی کچھ پڑھ پڑھ کے سواAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعورکہتا نہیں تم سے میں کہ ہوں اس سے نفورAkbar Allahabadi (1846–1921)
- شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہےدشوار انساں کو ضبط ہو جاتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہےاس جا ہے چمک جہاں زر افشانی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاشہونے نہیں دیتا حسن کے راز کو فاشAkbar Allahabadi (1846–1921)
- علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیمسرکار کی نوکری کو ہرگز نہ کر ایمAkbar Allahabadi (1846–1921)
- غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھاافعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہےخاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایاغفلت ہی میں آدمی کو ڈوبا پایاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیںبے ساختہ قافیے بھی مل جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلےہر سمت سے بیسیوں رسالے نکلےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہبیماری و موت سے کہاں کس کو پناہAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نےدیکھا دنیا میں ایک زمانہ ہم نےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کیہر باغ میں یہ کلی نہیں کھلنے کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہےہمسایہ بھی ہو شریک تب شادی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیلغیرت نہیں میری بزم دانش میں دخیلAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلببیگانوں کے واسطے ہے اک حد ادبAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مس سیمیں بدنAkbar Allahabadi (1846–1921)
- تعجب سے کہنے لگے بابو صاحبگورنمنٹ سید پہ کیوں مہرباں ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- فرضی لطیفہAkbar Allahabadi (1846–1921)